Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
346 - 410
کرتے۔''یہ سن کر ربیع نے میری طر ف تلوار بڑھائی اورغصے کا اظہار کیا ، خلیفہ ابو جعفر منصور نے ربیع کو ڈانتے ہوئے کہا :'' اے ربیع ! یہ علم کی مجلس ہے، عقوبت (یعنی سزاوغیرہ ) کی مجلس نہیں ۔

    جب میں نے خلیفہ کی یہ بات سنی تو میری ڈھارس بندھی پھر میں نے کہا :اے ابو جعفر منصور! نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا : '' جس کے پاس اللہ عزوجل کی طرف سے کوئی دینی نصیحت آئے تو بے شک وہ اللہ عزوجل کی جانب سے اس کے لئے نعمت ہے ، اگر وہ اس نصیحت کو قبول کرے اور شکر ادا کرے (توبہت اچھی بات ہے) ورنہ وہ نصیحت اللہ عزوجل کی جانب سے اس (بندے) کے خلاف حجت ہوگی، اور اس شخص کے گناہوں میں اضافہ ہوگا اور اللہ عزوجل کی ناراضگی اس پرزیادہ ہوگی۔''
(شعب الایمان للبیھقی، باب فی طاعۃ أولی الأمر، فصل فی نصیحۃ الولاۃ، الحدیث:۷۴۱۰، ج۶،ص۲۹)
    اے منصور! حضرت سیدنا عطیہ بن بشر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی  پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''جو حاکم اس حال میں رات گزارے کہ اپنی رعایا سے بے خبر ہو تو اللہ عزوجل اس پر جنت حرام فرما دیتا ہے۔''
 (شعب الایمان للبیھقی، باب فی طاعۃ أولی الأمر، فصل فی نصیحۃ الولاۃ، الحدیث۷۴۱۱،ج۶،ص۳۰)
      اے خلیفہ! لوگوں کے دل اس لئے تیرے بارے میں نرم ہیں کہ تواللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اقرباء میں سے ہے ،اسی قرابت داری کی وجہ سے لوگو ں نے تجھے اپنا حاکم مان لیا،ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم لوگو ں پر بہت رحم وکرم فرماتے، کسی کے لئے اپنے دروازے بند نہ فرماتے اور کسی کو ملاقات سے نہ روکتے ، سب سے مشفقانہ رویّہ رکھتے ۔ جب لوگو ں کو کوئی خوشی پہنچتی تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم بھی خوش ہوتے او راگر انہیں کوئی تکلیف پہنچی توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر یشان ہوجاتے ، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمہر معاملے میں عدل وانصاف سے کام لیتے ۔ 

    اے خلیفہ منصور! تمہیں بہت سارے لوگوں کی ذمہ داری ملی ہے تم ان پر حاکم ہو ۔ تمہیں تو سب کی فکر ہونی چاہےئ، لیکن معاملہ اس کے بر عکس ہے تم صرف اپنی ہی بھلائی کی فکر میں ہو، تم پر تو لازم ہے کہ لوگوں میں عدل وانصاف قائم کرو، ذرا سوچو تو سہی کہ اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب لوگ تمہارے بارے میں ظلم وزیادتی کی شکایت کریں گے ؟۔

    اے خلیفہ منصور ! حضرت سیدنا حبیب بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک اعرابی کو حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ہاتھوں چھڑی سے بلا قصد خراش آگئی تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اس اعرابی کو بلایا او رفرمایا :'' مجھ سے بدلہ لے لو ، اس نے عرض کی :''یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! میرے ماں باپ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر قربان ! میں نے آپ کو معاف کیا، خدا عزوجل کی قسم! اگر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم مجھے قتل بھی کر دیں تو میں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے بدلہ نہیں لوں گا ۔
Flag Counter