روتے اور زخمی شخص کی طر ح تڑپتے ۔
میں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :'' اے دنیا ! کیا تو نے مجھ سے منہ موڑلیا ہے یا ابھی بھی تو مجھ پر مشتاق ہے ؟ اے دھوکے باز دنیا! جا، تو کسی او ر کو دھوکہ دے ،میں تجھے تین طلاقیں دے چکاہوں اب رجوع ہر گز نہیں ۔ تیری عمر بہت کم ہے اور تیری آسائشیں اور نعمتیں انتہائی حقیر ہیں، لیکن تیرے نقصانا ت بہت زیادہ ہیں ، ہائے !سفرِ (آخرت) بہت طویل ہے ،زادِ راہ بہت قلیل اور راستہ انتہائی خطرناک اورپُرپیچ ہے ۔
یہ سن کر حضرت سیدنا امیر معاویہ بن سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی آنکھوں سے سیلِ اشک رو اں ہوگئے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ریش مبارک آنسوؤں سے تر ہوگئی اور وہاں موجود لوگ بھی زار وقطارونے لگے ۔پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:'' اللہ عزوجل ابو الحسن حضرت سیدنا علی المرتضٰے شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الْکَرِیْم پررحم فرمائے ، خدا عزوجل کی قسم! وہ ایسے ہی تھے ۔
پھر حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا :'' اے ضرار رضی اللہ تعالیٰ عنہ! ان (کی جدائی کا غم) تم پر کیسا ہے؟عرض کی : '' اس عورت کے غم کی طر ح جس کی گود میں اس کے بچے کو ذبح کر دیا گیا ہو ۔'' جس طرح اس عورت کے آنسونہیں تھمتے اور نہ ہی غم کم ہوتا ہے ۔ اسی طرح میری بھی ایسی ہی حالت ہے۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علی وسلم)