Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
339 - 410
اپنے اس عمل میں زیادتی کا طلبگارہوا ۔اور اگر اس کا عمل کتاب اللہ عزوجل کے منافی ہوا تو اللہ عزوجل کی نارضگی سے بچنے کیلئے قریب ہی سے لوٹ آیا ۔

    دنیا کا زوال بالکل ظاہر ہے۔ اس کی نعمتیں دائمی ہوں گا ۔نہ ہی اس کے مصائب وآلام سے کوئی امن میں ہے اس کی نئی چیز پوشیدہ ہوجاتی ہے ۔صحت مند بیمار ہوجاتا ہے ، غنی فقیر بن جاتا ہے۔ اپنے رہنے والوں کو اکثر عذاب سے دو چار رکھتی ہے اور ہر حال میں انہیں کھیل تماشا بنائے رکھتی ہے ۔دنیا میں سوائے اس کے کوئی چیز تیرے لئے فائدہ مند نہیں کہ جسے تو آخرت کے لئے بھیج چکا ہے ۔ پس تو مال کو اپنے لیے دنیا میں ذخیرہ نہ کر او رنہ اس چیز میں اپنے نفس کی پیرو ی کر جس کے بارے میں تو جانتا ہے کہ اسے تو نے اپنے پیچھے چھوڑ کر چلے جانا ہے ۔ بلکہ آنے والی مشقتوں کے لئے زادِ راہ تیار کر لے ( یعنی صدقہ وخیرات کرتا کہ آگے کام آئے ) اور اللہ عزوجل کی بارگاہ اقدس سے بلاوا (یعنی موت)آنے سے قبل اس کا اہتمام کر لے ۔کہیں ایسا نہ کہ اچانک موت کے گھاٹ اتر جائے اور تیری خواہشات دھری کی دھری رہ جائیں ۔ پھراسوقت تجھے شرمندگی اٹھانا پڑے۔ مگر اسوقت کی ندامت و شرمندگی کسی کا م نہ آئے گی دنیا کو اپنے جسم کی صحبت عطا کر مگر اسے اپنے دل سے دور رکھ اور اس کے غم میں مبتلا نہ ہو۔

    دنیا والوں اور ان کے امور کے درمیانراستہ خالی چھوڑ دے کیونکہ وہ تھوڑا عرصہ ہی باقی رہیں گے۔مگر حقیقت میں اس کے وبال کو سجایا ہوا پیش کیا گیا ہے ۔ لوگو ں کا دنیا کو پسند کرنا تیرے اس کو ناپسند کرنے میں اضافہ کرے اور لوگوں کا اس میں مطمئن ہونا تیرے لئے اس میں احتیاط کرنے اور اس سے مزید دور بھاگنے میں اضافہ کرے ۔ جس کام ( یعنی عبادت )کے لئے تجھے پیدا کیا گیا ہے اس میں خود محبت کر۔ اپنی مشغولیت اور فراغت اسی میں گزار دے۔ تو نے جو عمل بھی کیا تو اسے دیکھ لے گا اور اس کے بارے میں تجھ سے پوچھا جائے گا ،اب تو صبح وشام موت کا انتظار کر ۔

     اے لوگو! تم ایسے برے اور مذموم گھر میں آگئے جسے آزمائش کے طور پر پیدا کیا گیا اور اس کی ایک مقررہ میعاد ہے جب وہ پوری ہوجائے تو (زندگی)ختم ہوجاتی ہے ۔ یہ ایسا فانی گھر ہے کہ اللہ عزوجل اپنی مخلوق کے اس کی طر ف جھکنے اور مائل ہونے سے راضی اور خوش نہیں ہوتا ، اس کے عیوب ، اس سے باز رہنے اور اس کے علاوہ میں رغبت رکھنے کے بارے میں بہت ساری آیات اور مثالیں بیان کی گئی ہیں، جو اس میں رہا مگر اس سے نفرت کی اور نفسانی خواہشات کو تر ک کیا تو وہی سعاوت مند رہا۔ اور جو اس میں رہا او ر اس سے رغبت اور محبت رکھی تو ایسا کرنے سے وہ بدبخت ہوگیا ۔ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محرو م ہوگیا ۔

     اس کا مال ومتاع انتہائی قلیل ہے اور اس کا فنا ہوجانا لکھ د یاگیا ہے ۔اس کے رہنے والے اسے چھوڑ کر ان منازل کی جانب جانے والے ہیں جو کبھی فنا نہ ہونگی ۔ اے ابن آدم! دنیا کی طویل عمری تجھے دھوکے میں نہ رکھے۔