Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
340 - 410
     بے شک آنے والی ہولناکیاں اور امور کی سختیاں جو کہ تمہارے سامنے ہیں ان سے آج تک کوئی بھی خلاصی نہیں پاسکا۔ خدا عزوجل کی قسم ! اس مشکل راستے پر ضرو رچلنا ہے اور تمام امور ضرور پیش آنے والے ہیں۔ پھر یا تو اس کے شر سے عافیت اور اسکی ہولناکی سے نجات مل جائے گی ۔یا پھر ایسی ہلاکت وبربادی ہوگی کہ جس کے بعد خیر اور بھلائی نہیں ہے ۔ اے ابن آدم ! موت کی تیاری میں جلدی کر اور '' کل ، کل '' کی رٹ نہ لگا ۔ جو کرنا ہے آج ہی کر لے۔ اس لئے کہ تو یہ نہیں جانتا کہ کب تجھے اللہ عزوجل کی طر ف لوٹ کر جانا ہے ۔

     اے ابن آدم! تو ہرگز نیکی کے کسی کام کو بھی حقیر نہ جان ،کیونکہ جب تو اسے دار جزاء میں دیکھے گا تو اس نیکی کا وہاں موجود ہونا تجھے خوش کردے گا۔اور برائی کے کسی کام کو ہرگز حقیر نہ جان! کیونکہ جب تو اسے دیکھے گا تو اس کاوہاں موجود ہونا تجھے غمناک کردے گا ۔ اے ابن آدم ! زمین کو اپنے قدموں تلے روندھ ڈال کیونکہ یہ تیری قبر کے قریب ہے۔ 

     اے ابن آدم ! جس وقت سے تیری ماں نے تجھے جنا اس وقت سے اب تک لگا تا ر تیری عمر کم ہوتی جار ہی ہے۔ 

     اے ابن آدم ! تیرے لئے ایک نامہ اعمال کھول دیا گیا ہے اور تیرے اوپر دو فرشتے مقرر کردیئے گئے ہیں ۔ایک تیری دائیں جانب جبکہ دوسرا بائیں جانب ہے۔ اب کم اعمال کر! یا زیادہ، جب تو مرے گا تو اس نامہ اعمال کو لپیٹ کراسے تیرے گلے میں پہنا دیا جائے گا ۔
اِقْرَاۡ کِتٰبَکَ ؕ کَفٰی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیۡکَ حَسِیۡبًا
ترجمہ کنز الایمان :فرمایا جائے گا کہ اپنا نامہ (نامہ اعمال )پڑھ، آج تو خود ہی اپنا حساب کرنے کوبہت ہے ۔  ( پ 15، بنی اسرائیل :14)

     اے ابن آدم ! تو ریا کا ری کرتے ہوئے کوئی نیکی نہ کر او رنہ ہی شرم کی وجہ سے کسی نیکی کوچھوڑ ۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علی وسلم)
حکایت نمبر161:                 روزِ جزاء کا خوف
     حضرت سیدناعبد الوھاب بن عبداللہ بن ابی بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، آپ فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی: ''اے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! نیکی کریں
Flag Counter