Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
338 - 410
     اے لوگو! سنجیدگی اختیا کر لو ۔ اب وقت آگیا ہے کہ تم آنکھیں کھول لو ۔ اللہ عزوجل کی قسم !دنیا جب اس میں رہنے والوں کیلئے کھولی گئی تو اس کے کتے (حرص اور فتنہ وفساد) بھی کھول دیئے گئے۔ ا س دنیا کے کتےّ سب سے برے ہیں۔ دنیا کے حصول کی خاطر لوگوں نے تو ایک دوسرے پر تلوار وں سے حملے کئے ۔اور بعض نے بعض کی حرمت کو حلال جانا ۔ہائے ! افسوس اس فساد پر ! یہ کتنا بڑا فساد ہے 

     اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں حَسن کی جان ہے! اس دنیا میں جس مؤمن نے بھی صبح کی تو غم اور پریشانی کی حالت میں کی ۔ پس جلدی سے اللہ عزوجل کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوجاؤ اس لئے کہ بندہ مؤمن کو اللہ عزوجل سے ملاقات کا شرف حاصل کئے بغیر راحت وسکون کی دولت نصیب نہیں ہوسکتی ۔

    یقینا موت نے دنیا کو رسواکردیا ۔موت نے دنیا میں کسی بھی صاحبِ عقل کیلئے کوئی خوشی نہیں چھوڑی۔بندہ مؤمن نے جب دنیا کا قصد کیا تو اسے منہدم کردیا ۔اور اس کے ذریعے اپنی آخرت کو سنوارا،دنیا کی وجہ سے اپنی آخرت کوتباہ و برباد نہیں کیا ۔     جبکہ منافق نے ا پنی خواہشات کو اللہ عزوجل کی رضا پر ترجیح دی اور دنیا کو اپنا معبود بنالیا ۔ 

     اے ابن آدم ! جتنادنیوی رزق تیرے نصیب میں ہے وہ تجھے مل کر رہے گا۔ مگر آخرت کے معاملے میں تونیکیوں کا محتاج ہے ،تجھ پر لازم ہے کہ توآخرت کی تیاری کر۔ اگر توآخرت کی تیاری میں مشغول ہو جائے گا تو دنیا خود تیرے قدموں میں آ جائے گی ۔ اللہ عزوجل ان لوگو ں پر رحم فرمائے کہ جنہیں دنیا ملی لیکن انہوں نے یہ دنیوی ما ل ودولت اس کے حقداروں

(فقرا ء ومساکین) پر خرچ کر دیا۔ پھر یہ لوگ اس حق کو ادا کرنے کے بعدہلکے پھلکے ہوگئے ۔

    امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد :'' طلب کرنے والوں کی دو قسمیں ہیں:

(۱)۔۔۔۔۔۔ آخرت کا طلبگار ، ایسا شخص اپنی طلب میں کامیاب ہوجاتا ہے اور اسکی اُخروی نعمتیں ختم نہیں ہوتیں۔

(۲)۔۔۔۔۔۔ دنیا کا طلبگار، ایسا شخص اپنی طلب میں بہت کم کامیاب ہوتا ہے، اوراسے جو دنیوی نعمتیں ملتی ہیں ان میں سے اکثر کو ضائع کر بیٹھتاہے ۔ 

     میں نے ایسے لوگوں کی صحبت کا شرف حاصل کیا ہے جن کی نظریں آخرت ( کی نعمتوں) پر مرکوز تھیں۔ جاہل انہیں بیمار تصور کرتے تھے ۔ مگر اللہ عزوجل کی قسم! وہی سب سے زیادہ صحت مند دلوں کے مالک تھے ۔

     اللہ عزوجل اس بندے پر رحم فرمائے جس نے اپنے آپ کواللہ عزوجل کی عبادت میں مشغول رکھا ۔ اور اللہ عزوجل کی کتاب قرآن مجید پر عمل پیرا ہوا ۔ اگر اس کا عمل کتا ب اللہ عزوجل کے موافق ومطابق ہوا تو اس نے اللہ عزوجل کی حمد وثناء بیان کی اور