حضرت سیدناابوعبیدہ تاجی علیہ رحمۃاللہ الہادی فرماتے ہیں،میں نے حضرت سیدنا حسن بصری علیہ رحمۃاللہ القوی کو اس طرح فرماتے ہوئے سنا :'' اے ابن آدم ! تیرے لئے دنیا کشادہ کردی گئی تو تُو آخرت کے عمل سے غافل ہوگیا ، تیری موت قریب آن پہنچی ،تجھے عمل کرنے کا حکم دیا گیا ۔ اللہ عزوجل کا حق سب سے افضل ہے وہ اسوقت تک تجھ سے راضی نہ ہوگا جب تک تو ان احکام کو پورا نہ کرے جو اس نے تجھ پر لازم کئے ہیں۔ اے ابن آدم! جب تو لوگو ں کو نیکی کا کام کرتا دیکھے تو ایسے کام میں تو ان پر سبقت لے جانے کی کوشش کر او رجب تو انہیں ہلاکت وبر بادی کے کاموں میں دیکھے، تو ا ن سے اوران کے اختیار کردہ افعال سے کوسوں دور بھاگ۔ ہم نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جنہوں نے اپنی دنیا کو عاقبت پر تر جیح دی پس وہ ذلیل وخوار ہوگئے ۔
اے ابن آدم ! تو اس وقت تک ایمان کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا جب تک تو لوگو ں کی عیب جوئی سے باز نہ آجائے، پہلے تو ان عیوب کو تلاش کر جو تیری ذات میں موجود ہیں،پھراپنی ذات سے ا صلاح کا عمل شروع کر، جب تو ایسا کریگا تو دوسروں کی عیب جوئی سے بچا رہے گا ۔ اور اللہ عزوجل کے نزدیک پسندیدہ شخص وہ ہے جو ان خصوصیات کا حامل ہو ۔
ظلم اور جفاء ظاہر ہوگئے ، علماء کم ہوگئے اور سنت کو چھوڑدیا گیا ۔ مجھے ایسی برگزیدہ ہستیوں کی ہم نشینی کا شرف حاصل ہوا ہے کہ جنکی ہم نشینی ہر بندہ ئمؤمن کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ۔ اللہ عزوجل کی قسم ! آج کوئی بھی ایسا نہیں رہا جس سے ہم فیض اور برکات حاصل کرسکیں ۔ بہترین اور اچھے لوگ گزر گئے، دنیا دار سر کش لوگ باقی رہ گئے۔
اے ابن آدم ! تو ایمان اور خیانت کو ایک ساتھ جمع نہیں کرسکتا ۔ اے ابن آدم ! توکیسے مؤمنِ کامل ہوسکتا ہے جبکہ تیرا پڑوسی امن میں نہ ہو ۔ اے ابن آدم ! تو کیسے کامل مسلمان ہو سکتا ہے جبکہ لوگ تجھ سے سلامت نہ ہوں۔ دنیا میں مؤمن کی مثال ایک اجنبی کی سی ہے جو دنیوی ذلت سے نہیں گھبراتا ۔اور نہ ہی دنیوی عزت کے حصول کی خاطر دنیا داروں سے مقابلہ کرتا ہے ۔ دنیا داروں کا اندازِ زندگی اور ہے ، جبکہ اس کا اور ۔لو گ اس کی طرف سے راحت وسکون میں ہوتے ہیں۔ مؤمن کی صبح وشام اللہ عزوجل کے خوف ہی میں ہو تی ہے، اگرچہ وہ کتنا ہی نیک کیو ں نہ ہو ۔ اس مرد مجاہدکی حقیقت کو سوائے اس کے کوئی نہیں جانتا اس لیے کہ وہ دو خوفو ں کے درمیان ہے:
(۱) اس گناہ کاخوف جو اس سے سر زد ہوا۔ اب وہ نہیں جانتا کہ اس گناہ کے بدلے اللہ عزوجل اس کے ساتھ کیا معاملہ فرمائے گا ۔
(۲)۔۔۔۔۔۔ عنقریب آنے والی موت کا خوف کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اسے کون کو ن سی ہلاکتیں اور پریشانیاں پہنچے والی ہیں۔
اللہ عزوجل اس بندے پر رحم فرمائے جس نے غور وفکر کیا ، عبرت حاصل کی اور معاملے کی گہرائی کو غور سے دیکھ لیا ۔