'' اے میرے پروردگار عزوجل !ہماری اس حالت کی خبر رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعا لیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو پہنچا دے۔ ابھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مصروفِ دعا ہی تھے کہ ان ظالموں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تیرمار مار کرشہید کر دیااور اسی طرح اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کو بھی شہید کرتے رہے جب آخر میں صرف حضرت سید نا خبیب ، حضرت سید نا زید بن ثابت اور ایک اور صحابی رضی اللہ تعا لیٰ عنہم باقی رہ گئے، تو انہوں نے اپنے آپ کوان کے حوالے کر دیا۔کفار نے یہ دیکھ کر فوراًان سے تلواریں چھین لیں اور انہیں گھیرے میں لے لیااور زدوکوب کرنے لگے۔ یہ دیکھ کر ان میں سے ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:''خدا عزوجل کی قسم! یہ تمہاری پہلی بد عہدی ہے، اب میں ہر گز تمہارے وعدے پر اعتبار نہ کروں گااور تمہارے ساتھ نہ جاؤں گا،یہ سن کر کفار نے انہیں گھسیٹناشروع کر دیا انہوں نے مزاحمت کی اور ان کے ساتھ جانے سے انکار کیاتو ظالموں نے انہیں بھی شہید کر دیا، پھر وہ حضرت سید نا خبیب اور حضرت سید نا زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو مکہ مکر مہ لے گئے اورانہیں وہا ں فروخت کر دیا۔
یہ واقعہ غزوہ بدر کے بعد پیش آیا۔غزوہ بدر میں حضرت سید ناخبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حارث بن عامرکوقتل کیاتھا،چنانچہ بنوحارث نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خریدلیا اورآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کرنے کے لئے ایک دن مقرر کیا تا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کر کے حارث بن عامرکے قتل کابدلہ لے سکیں۔پھرآپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کو قید میں ڈال دیا گیا ۔ ایک دن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حارث کی لڑکی سے استرا مانگاتاکہ بال وغیرہ کاٹنے کے لئے اسے تیز کریں ۔لڑکی نے استرا دے دیا۔
تھوڑی دیر بعد اس لڑکی کاایک چھوٹاسابچہ آ پ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیااور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گود میں بیٹھ گیا،اس لڑکی کو یہ بات معلوم نہ تھی۔ جب وہ دوبارہ اس طرف آئی اور اس نے دیکھا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں استرا ہے اور بچہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گود میں بیٹھا ہوا ہے تو وہ بہت خوفزدہ ہوئی کہ کہیں یہ میرے بچے کوقتل نہ کر دے ،جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے خوفزدہ دیکھاتو فرمایا،کیاتو اس بات سے خوفزدہ ہے کہ میں اسے قتل کر دوں گا؟اس نے کہا:''ہاں۔''آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''خداعزو جل کی قسم! میں ہرگز ایسانہیں کر وں گا،پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بچے کواس کی طرف بھیج دیا۔'' وہ لڑکی کہاکرتی تھی:'' خدا عز وجل کی قسم! میں نے خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بہتر کوئی قیدی نہیں دیکھا۔''میں نے ایک دن دیکھا:'' حضرت سید نا خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں انگور کاایک خوشہ تھااور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس میں سے تناول فرمارہے تھے حالانکہ ان دنوں مکہ مکرمہ میں کہیں بھی انگور نہ تھے، یہ رزق اللہ تعالیٰ نے انہیں عطافرمایا تھا،اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کوایسی ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتا ہے کہ جہاں کا وہم وگمان بھی نہیں ہوتا۔
جب حضرت سید نا خبیبرضی اللہ تعالیٰ عنہ کوشہید کرنے کے لئے حدودِ حرم سے باہرلایاگیا تو اس مرد مجاہد کوکفار مکہ نے چاروں