Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
30 - 410
    پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تمام دینار تھیلیوں میں بھرے اور اپنے گھر کے سب سے امین شخص کو بلایااور فرمایا:'' یہ تھیلی فلاں خاندان کی بیواؤں کودے دو،یہ فلاں خاندان کے یتیم کو،یہ فلاں خاندان کے مسکین کو اور یہ فلاں خاندان کے حاجت مند کودے دو۔'' اس طرح آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ساری رقم تقسیم فرمادی صرف کچھ دینارباقی بچے۔ جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھرتشریف لائے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجہ محترمہ رضی اللہ تعا لیٰ عنہا نے پوچھا:''کیا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہہ مار ے لئے غلام نہیں خریدیں گے ؟جو مال بچاہے اس سے غلام خرید لیناچاہے۔'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''اگر ہم سے زیادہ کوئی محتاج آگیاتوہم یہ مال اس کو دے دیں گے۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ تعالی عليہ وسلم)
حکایت نمبر 3:          کفر وشر ک کی آندھیاں اورشمعِ ایمان
    حضر ت سید نا اسد بن حارثہ ثقفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت سید نا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے دس صحابہ کرام علیہم الرضوان پر مشتمل ایک قافلہ کسی محاذ پر روانہ فرمایااور حضرت سید نا عاصم بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان پر امیرمقرر فرمایا،جب یہ حضرات عسفان اور مکہ مکرمہ کے درمیان واقع ایک وادی میں پہنچے تو قبیلہ ہذیل کے کچھ لوگوں کو ان کی خبر ملی ،لہٰذا سوتیر اندازوں نے ان کا تعاقب شروع کر دیا، ایک جگہ صحابہ کرام علیہم الر ضوان کا یہ قافلہ کھانے کے لئے ٹھہرااور وہاں کھجوریں وغیرہ تناول فرمائیں،پھر آگے روانہ ہو گئے۔ جب یہ لوگ پیچھاکرتے ہوئے اس مقام پر پہنچے اور وہاں کھجورو ں کی گٹھلیا ں دیکھیں توآپس میں کہنے لگے :'' یہ تو مکہ مکرمہ کی کھجورو ں کی گٹھلیاں ہیں ،انہیں ڈھونڈو، وہ ضرور کہیں آس پاس ہی موجود ہوں گے،جب حضرت سیدناعاصم بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے محسوس فرمایاکہ ہمارا پیچھا کیاجارہاہے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان کولے کر ایک میدان میں آگئے جیسے ہی یہ میدان میں آئے تو دشمنو ں نے انہیں گھیر لیا اور کہاـ: ''تم سب اپنے آپ کوہمارے حوالے کر دو، ہم وعدہ کرتے ہیں کہ تمہیں قتل نہیں کریں گے۔''حضرت سیدنا عاصم بن ثابت رضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے فرمایا:'' میں ہرگزکسی کافرکے وعدہ کااعتبارنہیں کروں گا،ہم اپنے آپ کو تمہارے حوالے نہیں کریں گے۔'' جب دشمنوں نے یہ سنا تو ان پر تیروں کی بارش کر دی۔ حضرت سیدناعاصم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں دعاکے لئے ہاتھ اٹھادیئے اور عرض کی:
Flag Counter