Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
29 - 410
عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''اے سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ! تم کیاکہتے ہو؟'' عرض کی:'' حضور! میرے پاس کوئی خادم نہیں، مہینے میں ایک مرتبہ میں اپنے کپڑے دھوتاہوں۔میرے پاس کوئی دوسرالباس نہیں ہوتا جسے پہن کر ان کے پاس آؤں۔ پھر جب و ہ کپڑے سوکھ جاتے ہیں تو انہیں پہن کر ان کے پا س آجاتاہوں۔''چوتھی شکایت کرتے ہوئے وہ لوگ کہنے لگے:''انہیں کبھی کبھی شدید دورہ پڑتاہے او ر یہ بیہوش ہو جاتے ہیں۔

    حضرت سید ناعمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے فرمایا:''اے سعیدرضی اللہ تعا لیٰ عنہ !اس شکایت کاجواب دو۔''آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:''اسلام کی دولت حاصل ہونے سے پہلے میں نے حضورصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ایک صحابی حضرت سیدنا خبیب الانصاری رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کوایک میدان میں دیکھا تھا جنہیں کفارِ قریش نے کھجور کے درخت سے باندھ رکھا تھا اور تیروں سے ان کاجسم چھلنی کر رہے تھے،میں بھی ان لوگوں میں موجود تھا۔ پھر قریش ان سے پوچھنے لگے :''کیاتوا س بات کو پسند کرتاہے کہ تیری جگہ محمد( صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)کویہ سزا دی جائے ؟''یہ سن کر ان صحابی رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:''خدا عزوجل کی قسم! میں تو اس بات کو بھی پسند نہیں کرتا کہ میں گھر میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہوں اور میر ے آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو کوئی کانٹابھی چبھے، میرے آقاصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر میری ہزاروں جانیں قربان: 

؎ ترے نام پر سر کو قربان کر کے              ترے سر سے صدقے اتارا کروں میں

یہ اک جان کیا ہے اگر ہوں کروڑوں        ترے نام پر سب کو وارا کروں میں (سامانِ بخشش)

    اس کے بعد اس صحابی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں استغاثہ پیش کیا،اوریامحمد(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم) یامحمد (صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم) کی صدائیں بلندکیں ۔ افسوس !وہا ں ہوتے ہوئے بھی میں ان کی کچھ مدد نہ کر سکا (کیونکہ آپ اس وقت مسلمان نہ تھے)شاید میرا یہ گناہ کبھی بھی معاف نہ کیاجائے۔ بس یہ خیال آتے ہی میری حالت خراب ہوجاتی ہے،اور مجھ پر غشی طاری ہو جاتی ہے۔'' حضر ت سید نا عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:''اللہ عزوجل کاشکر ہے کہ اس نے میری فراست کو ضائع نہیں کیا اور مجھے ایسی عظیم ہستیاں عطافرمائیں۔پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سیدنا سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک ہزار دینار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:''ان کے ذریعے اپنی ضروریات پوری کرلینا ۔''جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجہ محترمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے دینار  دیکھے، توکہنے لگی :''اللہ عزوجل کاشکر ہے کہ اس نے ہمیں غنی کر دیا۔'' یہ سن کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:''ہمارے لئے زیادہ بہتری اسی میں ہے کہ ہم یہ تمام دولت ان لوگوں کودے دیں جوہم سے زیادہ محتاج ہیں، کیاتو اس بات پر راضی ہے ؟''وہ صبر وشکر کی پیکر بولی :'' میں راضی ہوں۔''