خیال کے پیشِ نظر میں حضرت سیدنا داؤد بن علی علیہ رحمۃ اللہ الولی کے گھر کی جانب چل دیا۔وہ سادگی پسند بزرگ تھے اور ایک سادہ سے مکان میں رہتے تھے ۔ میں نے وہاں پہنچ کر دروازہ کھٹکھٹایااوراندر آنے کی اجازت چاہی تو انہوں نے مجھے اندر بلا لیا۔
جب میں کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا کہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے سامنے ایک برتن میں پھلوں اورسبزیوں کے چھلکے اور ایک برتن میں آٹے کی بُور(یعنی بھوسی) رکھی ہوئی تھی اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اسے کھا رہے تھے۔ یہ دیکھ کر مجھے بڑی حیرت ہوئی، میں نے انہیں عید کی مبارکباد دی اور سوچنے لگا کہ آج عید کا دن ہے، ہر شخص انواع و اقسام کے کھانوں کا اہتمام کر رہا ہو گا لیکن آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آج کے دن بھی اس حالت میں ہیں کہ چھلکے اور آٹے کی بھوسی کھا کر گزارہ کر رہے ہیں۔میں نہایت غم کے عالم میں وہاں سے رخصت ہوا اور اپنے ایک صاحب ثروَت دوست کے پاس پہنچا ،جس کانام ''جرجانی'' مشہور تھا۔جب اس نے مجھے دیکھا توکہنے لگا: ''حضور! کس چیز نے آپ کو پریشان کر دیا ہے ،اللہ عزوجل آپ کی مدد فرمائے، آپ کو ہمیشہ خوش وخرم رکھے، میرے لئے کیا حکم ہے ؟''
میں نے کہا :''اے جرجانی !تمہارے پڑوس میں اللہ عزوجل کا ایک ولی رہتا ہے، آج عید کا دن ہے لیکن اس کی یہ حالت ہے کہ کوئی چیز خرید کر نہیں کھا سکتا۔میں نے دیکھا کہ وہ پھلوں کے چھلکے کھا رہے تھے، تم تو نیکیوں کے معاملے میں بہت زیادہ حریص ہو، تم اپنے اس پڑوسی کی خدمت سے غافل کیوں ہو ؟''
یہ سن کر اس نے کہا:'' حضور! آ پ جس شخص کی بات کر رہے ہیں وہ دنیا دار لوگوں سے دور رہنا پسند کرتا ہے۔ میں نے آج صبح ہی اسے ایک ہزار درہم بھجوائے اور اپنا ایک غلام بھی ان کی خدمت کے لئے بھیجا لیکن انہوں نے میرے دراہم اور غلام کو یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ جاؤ اور اپنے مالک سے کہہ دینا کہ تم نے مجھے کیا سمجھ کر یہ درہم بھجوائے ہیں؟ کیا میں نے تجھ سے اپنی حالت کے بارے میں کوئی شکایت کی ہے؟ مجھے تمہارے ان درہموں کی کوئی حاجت نہیں، میں ہر حال میں اپنے پروردگار عزوجل سے خوش ہوں، وہی میرا مقصود ِاصلی ہے، وہی میرا کفیل ہے اور وہ مجھے کافی ہے ۔''
اپنے دوست سے یہ بات سن کر میں بہت متعجب ہوا اوراس سے کہا: ''تم وہ درہم مجھے دو، میں ان کی بارگاہ میں یہ پیش کروں گا۔ مجھے امید ہے کہ وہ قبول فرما لیں گے۔''اُس نے فوراًغلام کو حکم دیا: ''ہزار ہزار درہموں سے بھرے ہوئے دو تھیلے لاؤ۔'' پھر اس نے مجھ سے کہا :'' ایک ہزار درہم میرے پڑوسی کے لئے اور ایک ہزار آپ کے لئے تحفہ ہیں۔ آپ یہ حقیر سا نذرانہ قبول فرما لیں۔''میں وہ دو ہزار درہم لے کر حضرت سیدنا داؤد بن علی علیہ رحمۃ اللہ القوی کے مکان پر پہنچااور دروازے پردستک دی ، آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ دروازے پر آئے اور اندر ہی سے پوچھا:'' اے ابو عبد اللہ محاملی! تم دوبارہ کس لئے یہاں آئے ہو ؟'' میں نے