(۱۰)۔۔۔۔۔۔بیماری سے پہلے صحت کو غنیمت جان اورفرصت کے لمحات سے بھرپور فائدہ اٹھا ، ورنہ غم وپریشانی کا سامنا ہو گا ۔
(۱۱)۔۔۔۔۔۔استقامت آدھی کامیابی ہے، جیسا کہ غم آدھا بڑھا پا ۔
(۱۲)۔۔۔۔۔۔جو چیز تیرے دل میں کھٹکے اسے چھوڑ دے کیونکہ اس کو چھوڑ دینے ہی میں تیری سلامتی ہے ۔
(سبحان اللہ عزوجل !ہمارے بزرگان دین نے ہماری رہنمائی کے لئے کیسے کیسے نصیحت آموز کلمات ارشاد فرمائے، مذکورہ بالا کلمات ایسے جامع اورحکمت آموز ہیں کہ اگر کوئی شخص ان پر عمل کرلے تو وہ دارین کی سعادتوں سے مالا مال ہوجائے، اسے دین ودنیا کے کسی معاملے میں شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے ، ان بارہ کلمات میں حضرت سیدنا علی المرتضیٰ شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ َتعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے ہمیں زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ بتا دیاہے کہ اگر اس طرح زندگی گزارو گے تو بہت جلد ترقی وکامیابی کی دولت نصیب ہوگی اور اللہ عزوجل کی رضا نصیب ہوگی۔
یہ حضرات خود علم وعمل کے پیکر ہوا کرتے تھے اورجو شخص مخلص وباعمل ہو اس کے سینے میں اللہ عزوجل علم وحکمت کے چشمے رواں فرمادیتاہے، پھر اس کی زبان سے نکلے ہوئے کلمات کتنے ہی مُردہ دلوں کو زندہ کردیتے ہیں ، کتنوں کی بگڑی بن جاتی ہے ۔ جب یہ لوگ کسی کو نصیحت کرتے ہیں تو خیر خواہی کی نیت سے کرتے ہیں اورجو بات دل کی گہرائیوں سے نکلے وہ مؤثر کیوں نہ ہو۔ حقیقۃً وہی بات اثر کرتی ہے جو دل سے نکلتی ہے ۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)
؎ دل سے جوبات نکلتی ہے، اثر رکھتی ہے پر نہیں،طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
اللہ عزوجل ہمیں بزرگانِ دین کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطافرمائے ۔ امین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)