عرض کی : ''حضور! ایک معاملہ درپیش ہے، اسی کے متعلق کچھ گفتگو کرنی ہے۔''پس انہوں نے مجھے اندر آنے کی اجازت عطا فرمادی میں ان کے پاس بیٹھ گیا اورپھر درہم نکال کر ان کے سامنے رکھ دیئے۔یہ دیکھ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ''میں نے تجھے اپنے پاس آنے کی اجازت دی اور تم میری حالت سے واقف ہو گئے۔میں تو یہ سمجھا تھا کہ تم میری اس حالت کے امین ہو ۔میں نے تم پر اعتماد کیا تھا، کیا اس اعتماد کاصلہ تم اس دنیوی دولت کے ذریعے دے رہے ہو ؟جاؤ !اپنی یہ دنیوی دولت اپنے پاس ہی رکھو، مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں ۔''
حضرت سیدنا عبد اللہ محاملی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:''ان کی یہ شانِ استغناء دیکھ کر میں واپس چلا آیا اور اب میری نظروں میں دنیا حقیر ہو گئی تھی۔ میں اپنے دوست جرجانی کے پاس گیا اسے سارا ماجرا سنایااور ساری رقم واپس کر دینا چاہی تو ا س نے یہ کہتے ہوئے وہ درہم واپس کر دیئے کہ'' اللہ عزوجل کی قسم ! میں جو رقم اللہ عزوجل کی راہ میں دے چکا اسے کبھی واپس نہ لوں گا لہٰذا یہ مال تم اپنے پاس رکھو اور جہاں چاہو خرچ کرو۔'' پھر میں وہاں سے چلا آیا اور میرے دل میں مال کی بالکل بھی محبت نہ تھی میں نے سوچ لیا کہ میں یہ ساری رقم ایسے لوگوں میں تقسیم کر دوں گا جو شدید حاجت مند ہونے کے باوجود دوسروں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے بلکہ صبر و شکر سے کام لیتے ہیں اور اپنی حالت حتی الامکان کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیتے ۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)
؎ نہ دولت دے نہ ثروت دے مجھے بس یہ سعادت دے تیرے قدموں میں مر جاؤں میں رو رو کر مدینے میں
نہ مجھ کو آزما دنیا کا مال و زر عطا کر کے عطا کر اپنا غم اور چشم گریاں یا رسول اللہلوا!
(یااللہ عزوجل!ان بزرگوں کی پاکیزہ صفات کے صدقے ہمیں بھی دنیا کی محبت سے خلاصی عطا فرما، دوسروں کے سامنے دستِ سوال پھیلانے سے ہمیں محفوظ رکھ، قناعت و صبر و شکر کی نعمت عطا فرما، ہمیں زمانے میں اپنے علاوہ کسی اور کا محتاج نہ کر ،صرف اپنا ہی محتاج رکھ اوردنیا کی حرص و محبت سے ہماری حفاظت فرما ۔ہمیں اپنے پیارے حبیب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی سچی محبت عطا فرما، غمِ مال نہیں بلکہ غمِ مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّممیں رونے والی آنکھیں عطا فرما۔ ہمارے دلوں میں اپنی اور اپنے حبیب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی محبت راسخ فرما ،ہمیں مال و دولت نہیں چاہے، ہم تو تیری دائمی رضا کے ہی طلب گار ہیں۔ اے ہمارے پاک پروردگا ر عزوجل !ہم سے ہمیشہ کے لئے راضی ہو جا اور ہمیں ہر حال میں اپنی رضا پر راضی رہنے کی توفیق عطا فرما، حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے صدقے ہمیں قناعت کی دولت نصیب فرما اور دوسروں کی محتاجی سے بچا۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)
؎ نہ محتاج کر تو جہاں میں کسی کا مجھے مفلسی سے بچا یا الٰہی عزوجل!