Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
27 - 410
    پھر حضرت سیدنا عمرفاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی طرف خط بھیجا اور اس میں لکھا:'' جیسے ہی ہمارایہ خط پہنچے فوراً ہمارے پاس چلے آؤ ،لہٰذا خط پاکر حضرت سیدنا عمیررضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے ،حضرت سیدنا عمرِفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے پوچھا:'' آپ نے دینار کہاں خرچ کئے ؟بولے: ''میں نے جہاں چاہا انہیں خرچ کیا،آپ ان کے متعلق کیوں پوچھ رہے ہیں؟''آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''میں تمہیں قسم دے کر کہتا ہوں مجھے بتاؤ تم نے وہ دینار کہاں خرچ کئے؟''حضرت سیدناعمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:'' میں نے وہ دینار اپنی آخرت کے لئے ذخیرہ کر لئے ہیں۔''

    حضرت سیدناعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ سن کر فرمایا:''اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے اورآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خوش وخرم رکھے، اسی طرح حضرت سیدنا عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کو دعائیں دیتے رہے، پھر حکم فرمایا: انہیں چھ من گندم اور کچھ کپڑے د ے دیئے جائیں۔'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ سن کر کہاـ:'' مجھے گندم کی کوئی حاجت نہیں، مَیں گھر میں دو صاع گندم چھوڑ کر آیاہوں، جب وہ ختم ہوجائے گی تو اللہ عزوجل ہمیں اور عطافرمائے گا ۔پس آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گندم قبول نہ فرمائی اور کپڑے بھی یہ کہہ کر لئے کہ فلاں غریب عورت کو ان کی حاجت ہے ،میں یہ کپڑے اسے دے دوں گا، پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگئے اور کچھ عرصہ بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اِنتقال ہو گیا۔(اللہ عزوجل کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین)

    جب حضرت سیدنا عمرفاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوان کے وصال کی خبر ملی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بہت صدمہ ہوا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ا ن کی تد فین کے لئے پیدل ہی جنت البقیع کی طرف چل پڑے، بہت سے لو گ بھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے، جب حضرت سیدنا عمیررضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دفن کر دیا گیا تو حضرت سیدناعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں سے کہا:''تم اپنی اپنی خواہش کااظہار کرو۔'' ان میں سے ایک شخص بولا: ''اے امیر المؤمنین رضی اللہ تعا لیٰ عنہ !میری یہ خواہش ہے کہ میرے پاس بہت سامال ہو اورمیں اس کے ذریعے غلاموں کوآزادکرواؤں تاکہ اللہ عزوجل کی رضا نصیب ہو۔'' دوسرے نے کہا:''میری یہ خواہش ہے کہ میرے پاس بہت سامال ہو جسے میں اللہ عزوجل کی راہ میں خرچ کردوں۔''ایک اور شخص نے کہا:''میری خواہش ہے کہ اللہ عزوجل مجھے بہت زیادہ قوت عطا فرمائے تا کہ میں بئرِ زمزم سے پانی نکال کر حجاج کو سیراب کروں ۔'' پھر حضرت سیدنا عمرفاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: ''میری تو یہ خواہش ہے کہ مجھے عمیربن سعدرضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے لوگ مل جائیں جنہیں میں گورنر بناؤں او ر مسلمانوں کے کاموں کا والی بنا دوں ۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم)