تعالیٰ عنہ نے پوچھا:''کیا حضرت سیدنا عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ مجرموں کوسزانہیں دیتے ؟''اس نے کہا:''کیوں نہیں۔''وہ حدود قائم فرماتے ہیں اور انہوں نے تو اپنے بیٹے پر بھی کسی خطا ۱؎پر حد قائم فرمائی یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے ۔'' حضرت سیدنا عمیررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا،اے اللہ عزوجل !تو حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عزت عطافرما،ان کی مدد فرما، بے شک وہ تجھ سے بہت زیا دہ محبت کرتے ہیں۔
وہ شخص حضرت سید نا عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں تین دن مہمان رہا۔ آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کے ہاں جَوکی ایک روٹی ہوتی جو اسے کھلا دیتے اور خود بھوکے رہتے ۔ یہاں تک کہ آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ مشقت میں پڑ گئے اور آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کو بہت زیادہ پریشانی ہونے لگی۔چنانچہ آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے اس سے معذرت کرتے ہوئے فرمایا:''ہمیں بہت زیادہ پریشانی کاسامنا ہے ،اگر آپ مناسب سمجھیں تو ہم سے رخصت ہو جائیں ،جب اس نے یہ سنا تو دینار نکال کر آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کی بارگاہ میں پیش کئے اور کہا:'' یہ امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کے لئے بھیجے ہیں،انہیں قبول فرمائيے اور اپنی ضروریات میں استعمال کيجئے۔''جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ سنا تو ایک زور دار چیخ ماری اور فرمایا:''مجھے ان کی کچھ حاجت نہیں،انہیں واپس لے جاؤ۔''یہ دیکھ کر آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کی زوجہ محترمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے عر ض کی:'' آپ انہیں قبول کر لیجئے، اگر ان کی ضرورت محسوس ہو تو استعمال کر لیناورنہ حاجت مندوں اور فقراء میں تقسیم فرمادینا۔''حضرت سید نا عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''اللہ عزوجل کی قسم! میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس میں انہیں رکھ سکوں ۔''یہ سن کر آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کی زوجہ محترمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے کرتے کانیچے والاحصہ پھاڑ کر دیا،اور کہا:''اس میں رکھ لیجئے۔''آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے وہ دینار لے کر اس کپڑے میں رکھ لئے پھر گھر سے باہر تشریف لے گئے اور تمام دینار شہداء کے اقرباء اور فقراء ومساکین میں تقسیم فرمادیئے ۔ جب واپس گھر آئے توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک دینار بھی نہ تھا،دینار لانے والے کا گمان تھا کہ شاید مجھے بھی کچھ حصہ ملے گا لیکن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سب دینار فقراء میں تقسیم فرمادئیے تھے۔ پھر حضرت سیدنا عمیررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے فرمایا:''امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو میراسلام عرض کرنا۔'' پھر وہ شخص وہاں سے روانہ ہوکر حضرت سیدنا عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے پوچھا:''تم نے وہاں کیا دیکھا؟'' عرض کی: ''بہت تنگدستی اور فقر وفاقہ کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں ،پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا :'' انہوں نے دیناروں کاکیاکیا؟''عرض کی:'' مجھے معلوم نہیں۔''