Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
262 - 410
    چنانچہ اس نے ایک بہترین جبہ پہنا ، خنجرلیا ، گلے میں تلوار لٹکائی اور بڑی مغرور انہ چال چلتے ہوئے دربار کی طرف روانہ ہوا۔ اس کے بال اتنے بڑے تھے کہ کندھوں سے بھی نیچے آرہے تھے۔ وہ خوشی خوشی دربار میں پہنچا اور جاکر بڑے ادب سے خلیفہ منصور کو سلام کیا ۔

    خلیفہ نے جواب دیا اور کہا :''کیا تُو وہی شخص ہے جس نے اُمراء ،وزراء اور عوام کے بھرے مجمع میں مجھے سر زنش کی تھی اور بڑے سخت کلمات کے ساتھ مجھے نصیحت کی تھی؟'' اس نے کہا :''ہا ں، میں وہی شخص ہو ں ۔'' یہ سن کر خلیفہ نے کہا : ''پھر اب تجھے کیا ہوگیاہے، اب تو تُو خود ایسی حالت میں ہے کہ تجھے سخت سزادی جائے ۔ اس دن تمہیں کیسے جرأ ت ہوئی کہ تم نے بھرے دربار میں مجھے رُسواکیااور اب تمہاری یہ حالت ہے کہ میرے سامنے جھک رہے ہو، اس وقت کیا تھا اور اب کیا ہے ؟'' تو وہ لالچی شخص کہنے لگا:''اے مہربان خلیفہ! اس واقعہ کے بعد میں نے غورو فکر کیا تو مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہے تھا ،اس وقت میں نے واقعی غلطی کی، آپ مجھے معاف فرمادیں، آپ حق پر تھے میں نے آپ پر بے جاتنقید کی تھی ، آپ کی ہاں میں ہاں ملانا ہی بہتر تھا۔''

     یہ سن کر خلیفہ منصور نے کہا: '' اے شخص !تجھ پر افسوس ہے، تُو اپنے مؤقف سے پھر گیا حالانکہ تُو نے بالکل حق بات کی تھی لیکن تُو اپنی نیت میں مخلص نہ تھا، تیراغصہ اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر نہ تھا ۔جب تُونے مجھے رُسواکیاتھاتو میں یہ سمجھا تھا تیراغضب وغصہ اللہ عزوجل کی خاطر ہے اس لئے میں نے تجھے اس وقت کوئی سزا نہ دی اور تیرے معاملے میں تو قف کیا لیکن اب مجھ پر یہ بات ظاہر ہوگئی کہ تیرا غصہ وغضب دُنیاحاصل کرنے کے لئے تھا اور تُو اپنی نیکی کی دعوت میں مخلص نہ تھا۔ رضائے الٰہی عزوجل تیرا مقصود نہ تھا بلکہ تُو حُبِّ جاہ اور دنیاوی دولت کا طالب تھا، اب میں تجھے ایسی درد ناک سزادوں گا کہ آئندہ کسی کو اس بات کی جرأ ت نہ ہوگی کہ بادشاہوں کے دربار میں ان کی بے عزتی کرے اور جس طر ح چاہے انہیں ڈانٹ دے۔ خداعزوجل کی قسم !میں تجھے عبرت کا نشان بنادو ں گا تا کہ لوگ تجھے سے عبرت پکڑیں ۔ ''

    یہ کہہ کہ خلیفہ منصور نے جلاد کو حکم دیا کہ اس دنیا دار کا سرقلم کردیا جائے، جلاد آگے بڑھا اور بھرے دربار میں اس کی گردن اڑا دی گئی ۔

    (اے ہمارے پیارے اللہ عزوجل! ہمیں اخلاص کی دولت سے مالا مال فرما اور دنیا وی مال کے وبال سے بچا ،ہر کام اپنی رضا کی خاطر کرنے کی تو فیق عطا فرما۔ ہمارا مطلوب بس اپنی ہی ذات کو بنائے رکھ، میرے مولا عزوجل !ہمیں صرف اپنی رضا کی خاطرسنتوں کی تبلیغ کرنے کی تو فیق عطا فرما۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)

       ؎ میرا ہر عمل بس ترے واسطے ہو     کر اِخلاص ایسا عطا یا الٰہی عزوجل!