کھانا کھایا پھر مشیر نے اسے واپس بھیج دیا ۔
کچھ دنوں بعد دوبارہ مشیر نے اسے اپنے پاس بلایا اور کہا:'' اے شخص !خلیفہ تمہارے معاملے کو بھول چکاہے اور تم ابھی تک قید میں ہو ، میں تمہارا خیر خواہ ہوں۔ اگر تم چاہو تو میں تمہیں ایک لونڈی دے دو ں جو تمہاری خدمت کرے اور تم اس سے تسکین حاصل کرو ۔'' اس پروہ شخص لالچ میں آگیا اور کہنے لگا :''اگر ایسا ہوجائے تو آپ کی مہربانی ہوگی ۔''چنانچہ اس کو لونڈی بھی دے دی گئی اور اسے اچھا کھانا بھی دیا جانے لگا۔ کچھ دن کے بعد مشیر نے اس سے کہا :''اگر تم چاہو تو میں خلیفہ کی بارگاہ میں عرض کرو ں کہ وہ تمہارے لئے اور تمہارے گھر والوں کے لئے کچھ روز مرہ کے خرچ کا بند و بست کر دے ۔'' تووہ لالچی شخص کہنے لگا:''یہ تو آپ کابڑا احسان ہوگا ۔'' چنانچہ اس کے لئے اور اس کے گھر والوں کے لئے روز مرہ کے خرچ کا انتظام کر دیا گیا۔
دن گز رتے رہے، ایک دن مُشیر اس شخص کے پاس آیا اور کہا :''اے شخص! میں تمہارا خیرا خواہ ہوں ،اگر تم چاہو تو ایک ایسی راہ تمہیں بتا تا ہوں جس کے ذریعے تم خلیفہ کا قُرب حاصل کر سکتے ہو۔''اس شخص نے بے تا ب ہو کر کہا :''جلدی بتا ؤ، وہ کون سا طریقہ ہے جس کے ذریعے مجھے دربار شاہی میں کوئی مقام مل جائے اور میں خلیفہ کا مُقرب بن جاؤں۔''مشیر نے کہا :'' مَیں تمہیں مُحتسِب مقرر کرتا ہوں تم جہاں بھی خلاف شرع کام ہوتا دیکھواسے بند کرادو ،جہاں کہیں ظلم ہو رہا ہو ظالموں کو سزا دو، آج سے تم بھی سرکاری عہدہ دارو ں میں شامل ہو جاؤ اور اپنا کام سنبھالو، لوگوں کو ناجائز اُمور سے روکو اور اچھی باتوں کا حکم دو۔'' یہ سن کر اس لالچی شخص کی خوشی کی اِنتہانہ رہی۔ اسی طر ح اس کا تقریبا ًایک مہینہ گزرگیا ۔
مشیر خلیفہ منصور کے پاس آیا اور اس سے کہا: ''حضور! میں نے اس شخص کو خوب آزما لیا ہے،جب اسے کھانے کی دعوت دی گئی تو اس نے قبول کرلی، مال ودولت کے لالچ میں بھی بر ی طر ح پھنس گیاہے پھر اسے سر کاری عہدے کی پیشکش کی تو اس نے بخوشی قبول کر لی اور اب وہ بڑے سکون سے زندگی بسر کر رہا ہے۔ اگر آپ پسند فرمائیں تو اسے آپ کے دربار میں حاضر کروں۔ اب اس کی یہ حالت ہے کہ وہ خوب عیش وعشرت کی زندگی گزار رہا ہے، لوگوں کو تو بری باتوں سے منع کرتا ہے لیکن خودبرائیوں میں مبتلا ہے۔ ''
خلیفہ منصور نے کہا :'' جاؤ اور اسے ہمارے دربار میں حاضر کر و۔'' مشیر فوراََ اس شخص کے پاس پہنچا اور کہا:'' میں نے خلیفہ کو بتا دیا ہے کہ تم اب اس کے سرکاری عہدہ داروں میں شامل ہو اور تمہارے ذِمہ یہ کام ہے کہ بری باتوں سے لوگوں کو منع کر و، ظالموں کو ظلم سے روکو اور اچھی باتیں عام کرو ۔ اب خلیفہ تم سے ملاقات کرنا چاہتا ہے تم اس کے دربار میں حاضر ہوجاؤ جیسا لباس تم کہو گے تمہیں مہیا کر دیا جائے گا۔'' یہ سن کر وہ شخص بہت خوش ہوا کہ آج تو خلیفہ نے میری معرا ج کر ادی۔