حضرت سیدناصالح بن کیسان علیہ رحمۃالرحمٰن سے مروی ہے کہ خلیفہ ولید بن یزید نے حضر ت سیدنا سعد بن ابراہیم علیہ رحمۃ اللہ العظیم کو مدینہ منورہ کا قاضی بناکر بھیجا ، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وہاں گئے اور بخوبی اپنی ذِمہ داری سرانجام دینے لگے۔ خوب عد ل وانصاف سے کام لیتے ،حدو د اللہ عزوجل کی پاسداری کرتے۔ جب حج کا سہانا مو سم قریب آنے لگا تو خلفیہ ولید بن یزید نے بھی حج کرنے کاارادہ کیا۔ چنانچہ اس نے ایک عمدہ قسم کا خیمہ بنوایا اور اس کی نیت یہ تھی کہ جب میں حج کر نے جاؤں گا تو اس خیمہ کو خانہ کعبہ کے قریب نصب کروادو ں گا۔ اس طر ح مَیں،میرے دوست احباب اور اہل وعیال اس خیمہ کے اندر رہ کر خانہ کعبہ کا طواف کریں گے اور عوام الناس باہر سے طواف کریں گے۔
ولید بن یزید بڑا ہی سخت مزاج او رمتکبر شخص تھا ۔جس کام کا اِرادہ کرلیتا اسے پورا کرنے کی بھر پور کوشش کرتاچاہے کسی پر کتنا ہی ظلم کرنا پڑے ۔جب بہترین قسم کا عمدہ خیمہ تیار ہوگیا تو اس نے وہ خیمہ ایک ہزار شہسواروں کے ساتھ مدینہ منورہ کی طر ف روانہ کیا اوراس لشکر کو بہت سا مال واسباب دیاکہ اس سارے مال کو اہل مدینہ میں تقسیم کردینا ۔ولید خود ابھی ملک شام ہی میں تھا، لشکر بڑی شان وشوکت سے چلا اور مدینہ منورہ پہنچ گیاپھر وہ خیمہ حضور نبی ئکریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے مصلّی کے قریب نصب کر دیا گیا۔ لوگو ں نے جب یہ معاملہ دیکھا تو بہت خوفزدہ ہوئے اور سب نے جمع ہوکر مشورہ کیا کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہے۔ خلیفہ نے تو یہ حکم صادر کردیا ہے، اب اس کے حکم کو کون ٹا ل سکتا ہے۔ سب کو معلوم تھا کہ ولید بن یزید کیسا بدمزاج خلیفہ ہے پس کسی کو بھی ہمت نہ ہوئی کہ وہ لشکر والوں کو مُصلّی رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر خیمہ نصب کرنے سے منع کرے ۔ بالآخر یہ طے پایا کہ ہم اپنے قاضی سعد بن ابراہیم علیہ رحمۃ اللہ العظیم کو جاکر اس معاملہ کی خبر دیتے ہیں ۔
چنانچہ سب لوگ جمع ہو کر حضرت سیدنا سعد بن ابراہیم علیہ رحمۃ اللہ العظیم کے پاس حاضر ہوئے اور انہیں صورتحال سے آگاہ کیا ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:'' جاؤ اور جاکر اس خیمے کو آگ لگا دو ۔'' یہ سن کرلوگ خوف زدہ ہوگئے اور کہنے لگے: ''حضور! ہم میں اتنی جرأ ت نہیں کہ اس خیمہ کو آگ لگائیں۔ملک شام سے ایک ہزار شہسوار آئے ہوئے ہیں، ہم ان کی موجودگی میں یہ کا م کیسے کرسکتے ہیں؟''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے جب لوگو ں سے یہ بُزدِلانہ جواب سنا تو اپنے غلام سے فرمایا :'' جاؤ اور فلاں تھیلے سے وہ قمیص نکال لاؤجسے پہن کر حضرت سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ غزوہ بد رمیں شریک ہوئے اور انہوں نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔'' خادم فوراََ وہ مبارک قمیص لے آیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے وہ قمیص پہنی اور خچر پر سوار ہو کر شامی لشکر کی جانب روانہ ہوئے، تمام لوگ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پیچھے پیچھے تھے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے وہاں پہنچ کر فرمایا: ''آگ لے آؤ ۔''خادم نے