Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
25 - 410
''تم جس مال کی وصولی کے لئے بھیجے گئے تھے وہ کہاں ہے ؟ ا ور تم نے وہاں رہ کر کیاکیاکام سر انجام ديئے؟''حضرت سیدنا عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: ''آپ مجھ سے کیاپوچھناچاہتے ہیں ؟''حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''سبحان اللہ عزوجل! میں جو پوچھنا چاہتا ہوں وہ بالکل واضح ہے۔''

    حضرت سیدنا عمیررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:''اللہ عزوجل کی قسم! اگرمجھے اس بات کاخوف نہ ہوتاکہ میرے نہ بتانے سے آپ کو غم ہو گاتو میں ہر گزآپ کو نہ بتاتا،سنئے!جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے بھیجاتھاتو وہاں پہنچ کرمیں نے وہاں کے تمام نیک لوگو ں کو جمع کیا اور انہیں مال جمع کرنے کے لئے کہا۔جب انہوں نے مالِ غنیمت اور جزیہ وغیرہ جمع کر لیاتو میں نے اس مال کواس کے مصارف(یعنی خرچ کرنے کی جگہوں)میں خرچ کر دیا۔اگراس میں سے کچھ بچتاتو میں یہاں ضرور لے کر آتا۔'' حضرت سید ناعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دریافت فرمایا:'' تم یہاں کچھ بھی نہیں لے کر آئے؟'' انہوں نے عرض کی:''نہیں۔''حضرت سید نا عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''حضرت عمیررضی اللہ تعا لیٰ عنہ کو دوبارہ وہاں کاحاکم بناکر بھیجاجاتاہے اس کے لئے عہد لکھو۔''حضرت سید ناعمیررضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے جب یہ سناتو عرض کی:'' اب میں یہ  کام نہ توآپ کے لئے کروں گانہ آپ کے بعد کسی اور کے لئے، کیونکہ اس کام میں مَیں اپنے آپ کو گناہوں سے نہیں بچا سکتابلکہ مجھ سے ایک خطابھی سر زد ہوئی ہے، میں نے ایک نصرانی کو یہ کہہ دیاتھا کہ'' اللہ عزوجل تجھے رسواکرے حالانکہ وہ ہمیں جزیہ دیا کرتاتھا اور ذمی کافر کو اذیت دینامنع ہے لہٰذا میں اب یہ عہدہ قبول نہیں کروں گا۔''پھر انہوں نے حضرت سید نا عمررضی اللہ تعا لیٰ عنہ سے اجازت چاہی اور اپنے گھرکی طرف روانہ ہو گئے۔

    ان کاگھر مدینہ منورہ سے کافی دور تھا۔وہ پیدل ہی گھر کی جانب چل دیئے۔ جب وہ چلے گئے تو حضرت سید ناعمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:'' ان کے بارے میں تحقیق کرنی چاہے۔ لہٰذا آ پ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے حارث نامی ایک شخص کو بلایااور اسے ایک سو دینار دے کر فرمایا:'' تم حضرت عمیررضی اللہ تعا لیٰ عنہ کے پاس جاؤ اور وہاں مہمان بن کر رہو، اگر وہاں دولت کے آثار دیکھو تو واپس آ جا نا اور اگرانہیں تنگدستی اور فقروفاقہ کی حالت میں پاؤ تو یہ دینار اُنہیں دے دینا۔''

    جب وہ شخص وہا ں پہنچا تو دیکھاکہ حضرت سیدنا عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے ہیں اور اپنے کُرتے سے گردوغباروغیرہ صاف کر رہے ہیں۔وہ ان کے پاس گئے اور سلام عرض کیا،آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے جواب دیااو ر فرمایا:'' اللہ عزوجل آپ پررحم فرمائے، آپ ہمارے ہاں مہمان ہو جائيے۔ لہٰذا وہ ان کے ہاں بطورِ مہمان ٹھہر گیا پھر حضرت سیدنا عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے پوچھا:''آپ کہاں سے تشریف لائے ہیں؟ ''اس نے کہا:''میں مدینہ منورہ سے آیاہوں۔'' حضرت سیدنا عمیررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا:'' امیر المؤمنین کو کس حال میں چھوڑ کر آئے ہو ؟''جواب دیا:''اچھی حالت میں ۔''پھرآپ رضی اللہ