Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
258 - 410
    اس مردِ صالح نے ساری رقم سمند ر میں ڈال دی ، کہنے والے نے کہا : ''پڑھ! وہ کلمہ یہ آیت مبارکہ ہے:
وَ مَنۡ یَّـتَّقِ اللہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا ۙ﴿2﴾وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیۡثُ لَا یَحْتَسِبُ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ فَہُوَ حَسْبُہٗ ؕ اِنَّ اللہَ بَالِغُ اَمْرِہٖ ؕ قَدْ جَعَلَ اللہُ لِکُلِّ شَیۡءٍ قَدْرًا ﴿3﴾
ترجمہ کنزالایمان: اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لئے نجات کی راہ نکال دے گا۔اوراسے وہاں سے روزی دے گاجہاں اس کا گمان نہ ہو، اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے، بےشک اللہ اپنا کام پورا کرنے والا ہے، بےشک اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ رکھاہے۔(پ28،الطلاق:2۔3)

اس نوجوان نے یہ آیات مبارکہ یاد کرلی اور اسے یقین ہوگیا کہ میں نے بہت بڑی دولت حاصل کرلی اور میری رقم رائیگا ں نہیں گئی۔

     جب باقی مسافرو ں نے اس شخص کا یہ طرزِ عمل دیکھا تو کہنے لگے: ''اے مسافر!یہ تُو نے کیا کیا؟ تُو نے خواہ مخواہ اپنی رقم سمندر میں پھینک دی اوراپنی ساری دولت سے محروم ہوگیا ۔''

    ابھی ان مسافر وں کی یہ بات مکمل بھی نہ ہونے پائی تھی کہ ہر طر ف سے کالی گھٹائیں چھانے لگیں، سمند ر میں طغیانی آ گئی، سر کش موجوں نے آن کی آن میں بحری جہاز کو تباہ وبر باد کر ڈالا اور سارے مسافر غرق ہوگئے ۔آیات مبارکہ سیکھنے والا شخص کہتا ہے کہ جب جہاز طو فان کی نذر ہونے لگا تو میں نے یقینِ کامل کے ساتھ انہیں آیات مبارکہ کا وِرد شرو ع کردیا۔تھوڑی ہی دیر میں مجھے ایک تختہ نظر آیا میں نے اس کا سہارا لیا۔ میری زبان پر مسلسل وہی آیات مبارکہ جاری تھیں۔ اللہ عزوجل نے کرم فرمایا اور مَیں اس تختے کے سہارے ساحل تک پہنچ گیا۔

     مَیں سمند ر سے باہر نکلا او ر آس پاس کاجائزہ لیاتو مجھے قریب ہی ایک خوبصورت محل نظر آیا۔ مَیں اس میں داخل ہوا تو وہاں ایک حسین وجمیل عورت موجودتھی۔ میں نے اس سے پوچھا:'' تُم کون ہو ؟'' اس نے کہا:'' مَیں بصرہ کی رہنے والی ہوں اور مجھے ایک جِن نے یہاں قید کر رکھا ہے۔ اس سمند ر میں جو بھی جہاز غرق ہوتا ہے وہ خبیث جن اس کا تمام مال و اسباب یہاں اس محل میں لے آتا ہے۔ شاید تمہارا جہاز بھی غرق ہوگیا ہے، اب وہ خبیث جن آنے والا ہے، تم فوراً کہیں چھپ جاؤ ورنہ وہ تمہیں دیکھتے ہی قتل کر دے گا، جلدی کرو اس کے آنے کا وقت ہوگیا ہے ۔''

    وہ شخص کہتا ہے کہ ہم ابھی یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ ایک جانب مجھے شدید کالا دھواں نظر آیا۔ میں سمجھ گیا کہ یہ وہی جن ہے ، میں نے فوراً بلند آواز سے اُنھیں آیات مبارکہ کا وِرد شرو ع کردیا، جب آیت مبارکہ کی آواز فضا میں بلند ہوئی تو وہ سارا دھواں خاک ہو کر ہوا میں اُڑ گیا، اب وہاں کسی جن کا نام ونشان بھی نہ تھا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عزوجل !ان آیات مبارکہ کی برکت سے ہمیں اس ظالم جن سے نجات مل گئی ۔میں نے اس عورت سے کہا :''چلو ا ٹھو! اب تم آزاد ہو، اللہ عزوجل نے اسخبیث جن کا کام تمام کردیا ہے ۔''
Flag Counter