آج حضرت سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ کوئی ناخوش گوار واقعہ تو پیش نہیں آیا لیکن اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عزوجل مجھے ہر مرتبہ خیر ہی کی خبر ملتی۔اسی طرح ایک سال امن وامان سے گزر گیا وہ حاکم ایک سال وہاں رہا لیکن وہ حضرت سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بال بھی بیکانہ کر سکا ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دعابارگاہ ِخداوندی عزوجل میں مقبول ہوئی او رآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر اس حاکم کو بُھلادیا گیا ۔ایک سال بعد وہ حاکم معزول کردیا گیا اور اسے کسی اور جگہ کا حاکم بنادیا گیا ایک دن ا س حاکم نے اپنے غلام سے کہا:''تیرا ناس ہو ! مَیں نے علی بن حسین ،قاسم بن محمد اور سالم بن عبداللہ کے سامنے تین مرتبہ قسم کھائی تھی کہ میں سعید بن مسیب (رضی اللہ تعالیٰ عنہ )کو قتل کرو ں گا لیکن جب تک میں مدینہ منورہ میں رہا مجھے سعید بن مسیب (رضی اللہ تعالیٰ عنہ )کا خیال تک نہ آیا، نہ جانے مجھے کیا ہوگیا تھا ۔اب میں تو ان حضرات کے سامنے رُسوا ہو کر رہ گیا کہ میں اپنی قسم کو پورا نہ کرسکا ۔''
اس غلام نے کہا:'' اگر آپ مجھے اجازت دیں تو میں کچھ عرض کرو ں؟ '' حاکم نے کہا:'' تمہیں اجازت ہے جو کہنا چاہو بے د ھڑک کہو۔'' غلام نے کہا: ''حضور ! اللہ عزوجل نے آپ سے حضرت سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذکر کو بھلا دیا ور آپ کو ان کے قتل کے گناہ میں ملوث نہ ہونے دیا۔ یہ تو آپ کے حق میں اللہ عزوجل نے بہت بہتر فیصلہ فرمایا ہے ،ورنہ ( قتلِ ناحق کا) جو اِرادہ آپ نے کیا تھا اس میں سر اسر آپ کا نقصان تھا ۔اللہ عزوجل کا فیصلہ آپ کے حق میں یقینا بہتر ہے ۔'' غلام کی یہ بات سن کر حاکم نے کہا:'' اے غلام! جاؤ تم اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر آزاد ہو ۔''