Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
256 - 410
رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد میں نہیں ہوں گے تو چنددنوں میں معاملہ ختم ہوجائے گاا ور حاکم یہی سمجھے گا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہیں چلے گئے ہیں ۔''

     آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''اگر مَیں ایسا کروں او رکسی کے گھر میں قیام کروں، توجب مؤذِن حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃ، حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃکی صدائیں بلند کر کے مجھے دربار الٰہی عزوجل کی طر ف بلائے گا تو میں اس کے حکم سے روگردانی کس طر ح کر سکوں گا، دن رات مجھے میرے پاک پروردگار عزوجل کی جانب سے مسجد میں حاضری کا حکم ملے اور میں ایک ظالم حکمران کی وجہ سے احکم الحاکمین عزوجل کے حکم سے اعراض کرو ں۔ یہ بات میں کبھی بھی گوارا نہیں کرسکتا ،چاہے میری جان ہی کیوں نہ چلی جائے میں مسجد کو ہر گز ہر گز نہیں چھوڑوں گا ۔''

     یہ جرأ ت مندانہ جواب سن کر میں نے عرض کی:'' حضور !پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ا س طر ح کریں کہ کسی او رمسجد میں نماز ادا فرمالیا کریں اور اپنی مجلسِ علم کسی او رجگہ قائم کر لیا کریں۔ اس طر ح بھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس حاکم کی نظرو ں سے اوجھل رہ سکتے ہیں۔'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ میں عرصہ دراز سے اسی مسجد میں اسی ستون کے پاس اپنے پاک پر وردگار عزوجل کی عبادت کر رہا ہوں، اب کسی ظالم کے خوف سے میں اس جگہ کوچھوڑ دوں یہ مجھے ہر گز منظور نہیں ،مَیں اسی مسجد میں اسی ستون کے پاس عبادتِ الٰہی عزوجل میں مشغول رہوں گا ۔''

    حضرت سیدنا قاسم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میری تینوں باتوں سے اِنکار فرمادیا تو میں نے عرض کی: ''اللہ عزوجل آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر رحم فرمائے ،کیا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی موت سے ڈر نہیں لگتا لو گ تو موت کے نام سے بھی کانپ جاتے ہیں اور آپ ہیں کہ حاکم کی شدید دھمکی کے باوجود ذرہ برابر بھی خوفزدہ نہیں ہوئے۔'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''خدا عزوجل کی قسم! میں اپنے رب عزوجل کے علاوہ کسی سے بھی نہیں ڈرتا ،مجھے صرف اسی پاک پرو ردگار عزوجل کا خوف ہے اس کے علاوہ میں مخلوق میں کسی سے نہیں ڈرتا ۔''

    میں نے عرض کی:'' حضور! حاکم نے شدید دھمکی دی ہے، میں تو بہت پریشان ہوگیا ہوں کہیں وہ ظالم حاکم آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے ؟'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:'' اے قاسم(رحمۃ اللہ تعالیٰ عنہ )! تم بے فکر رہو،میرا پروردگار عزوجل میری حفاظت فرمائے گا اور ان شاء اللہ عزوجل بہتری ہوگی ۔میں اپنے رب عزوجل جو کہ عرش ِعظیم کا مالک ہے ،اس کی بارگاہ میں دعا کرتا ہوں کہ وہ میرے معاملہ کو اس ظالم حاکم سے بُھلادے۔''

    اے قاسم(رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) ! تم بے فکر رہو ، ان شاء اللہ عزوجل سب بہتر ہوگا ۔ یہ سن کر میں وہاں سے چلا آیا، مجھے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طر ف سے بہت پر یشانی کا سامنا تھا ۔میں روز انہ لوگو ں سے پوچھتا کہ آج شہر میں کوئی خاص واقعہ تو پیش نہیں آیا ۔