| عُیونُ الحِکایات (حصہ اول) |
تو اپنے آپ کو اس عظیم دن کے لئے تیار رکھ جب تیرا سامنا خالق ِکائنات عزوجل سے ہوگاتو اس کی بارگاہ میں حاضر ہوگا پھر تجھ سے سوال وجواب ہوں گے۔ اس سخت دن کی تیاری میں ہر وقت مشغول رہ ، نیک اعمال کی کثرت کر اور اپنے آخرت کے خزانے کو اعمالِ صالحہ کی دولت سے جلد از جلد بھرنے کی کوشش کر، فضول مشاغل کو ترک کردے اور موت سے پہلے موت کی تیاری کرلے ورنہ بعد میں بہت پچھتا وا ہوگا ۔ جس وقت تیری روح نکل رہی ہوگی اور گلے تک پہنچ جائے گی تو تیری تمام محبوب اَشیاء جن کی تُو خواہش کیا کرتاتھا، سب کی سب دنیا ہی میں رہ جائیں گی اور ا س وقت تیری حسرت اِنتہا کو پہنچ چکی ہو گی لہٰذا اس وقت سے پہلے آخرت کی تیاری کرلے۔''
آخرت کی تیاری کا بہترین طریقہ :
(آخرت کی تیاری کابہترین طریقہ یہ ہے کہ ) تُوہر وقت یہ تصور رکھ کہ بس موت آپہنچی ہے ،رو ح میرے گلے میں اٹکی ہوئی ہے ،بس چندسانس باقی ہیں اور میں سکرات کے عالم میں غمگین و پریشان ہوں۔ میری تمام خواہشات ملیا میٹ ہوگئیں ، گھر والوں کے لئے جو تمنا ئیں تھیں وہ خاک میں مل گئیں۔ میرے اِرد گر د میرے اہل و عیال کھڑے ہیں اور میں انہیں بڑی حسرت سے دیکھ رہا ہوں ، ان میں سے کوئی بھی میرے ساتھ قبر میں جانے کو تیار نہیں۔ بس میرے اعمال میرے ساتھ ہوں گے ، اگر اعمال اچھے ہوئے تو آخرت میں آسانی ہوگی اوراگر (معاذ اللہ عزوجل ) اعمال برے ہوئے تو وہاں کی تکلیف بر داشت نہ ہو سکے گی ۔
؎ نہ بیلی ہو سکے بھائی نہ بیٹا باپ تے مائی تو کیوں پھرتا ہے سودائی عمل نے کام آنا ہے
پھر حضرت سیدنا ابو معاویہ اسود علیہ رحمۃاللہ الاحدنے فرمایا :''تمام اُمور میں سب سے زیادہ اَجر وثواب کا باعث صبر ہے، مصائب پر صبر کرنا بہت عظیم اَمر ہے ، لہٰذا صبر سے کام لے ۔ اپنی زبان کو ہر وقت اللہ عزوجل کے ذکر سے تر رکھ ۔کبھی بھی اس کے ذکر سے غافل نہ رہ ، ہرہر سانس پر اس کی پاکی بیان کر۔''
؎ غلام اک دم نہ کر غفلت حیاتی پر نہ غُرّہ خدا کی یاد کر ہر دم کہ جس نے کام آنا ہے
پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے دوبارہ رونا شرو ع کردیا ۔
پھر فرمانے لگے: ''ہائے افسوس! وہ دن کیسا خوفناک ہوگا جس دن میرا رنگ متغیر ہوجائے گا ، اس دن کا خوف مجھے کھائے جاتا ہے ،جب زبانیں خشک ہوجائیں گی، اگربروزِ قیامت میرا زادِ آخرت کم پڑگیا تو میرا کیا بنے گا، اس وقت میں کہاں جاؤں گا ؟کون میر ی مدد کریگا؟''اِتنا کہنے کے بعد پھر درد بھرے انداز میں رونے لگے۔
؎ دِلا غافل نہ ہو، یکدم یہ دنیا چھوڑ جانا ہے بغیچے چھوڑ کر خالی زمیں اندر سمانا ہے