Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
245 - 410
   جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے پوچھا گیا:'' حضور! یہ نصیحت آموز اور عظیم باتیں کس کے لئے ہیں اور آپ نے کہا ں سے سیکھی ہیں ؟ ''تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ''یہ ہر عقل مند کے لئے مفیدباتیں ہیں،جو بھی ان پر عمل کریگا فلاح وکامرانی سے مشرف ہوگا اور یہ تمام باتیں مَیں نے ایک بہت ہی دانا شخص حضرت سیدنا علی بن فضیل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے سیکھی ہیں۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)
حکایت نمبر117:                زمین سونابن گئی
     حضرت سیدنا محمد بن داؤد علیہ رحمۃ اللہ الودود فرماتے ہیں، میں نے حضرت سیدنا ابو سلیمان مغربی علیہ رحمۃ اللہ القوی کو یہ فرماتے سنا: '' مَیں رزقِ حلال حاصل کرنے کے لئے پہاڑ سے لکڑیاں کاٹ کر لاتا اور انہیں بیچ کر اپنی ضرورت کی چیزیں خریدتا،اس طرح میراگزر بسر ہو تا تھا ۔ مَیں حد درجہ اِحتیاط کرتا کہ کہیں میرے رزقِ حلال میں شبہ والی یا ناجائز چیز شامل نہ ہوجائے۔الغر ض! میں خوب احتیاط سے کام لیتا اور شکوک وشبہات والی چیزوں کو ترک کردیتا ۔

     ایک رات مجھے خواب میں بصرہ کے مشہور اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی زیارت ہوئی ،ان میں حضرت سیدنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی ، حضرت سیدنا فر قد علیہ رحمۃ اللہ الاحد اور حضرت سیدنا مالک بن دینار علیہ رحمۃ اللہ الغفار بھی شامل تھے۔ 

    مَیں نے انہیں اپنے حالات سے آگاہ کیااور عرض کی:'' آپ لوگ مسلمانوں کے امام و مقتدا ہیں، مجھے رزقِ حلال کے حصول کا کوئی ایسا طریقہ بتائیں کہ جس میں نہ خالق عزوجل کی نافرمانی ہو ،نہ مخلوق میں سے کسی کااِحسان ہو ۔'' میری یہ بات سن کر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے مقام'' طر طوس ''سے دور ایک ایسی جگہ لے گئے جہاں حلال پر ندو ں کی کثرت تھی۔ ان بزرگو ں نے مجھے یہا ں چھوڑ دیا اور فرمایا:'' تم یہاں رہو اور اللہ عزوجل کی نعمتیں کھاؤ۔ یہی وہ طریقہ ہے جس میں نہ خالق عزوجل کی نافرمانی ہے ،نہ مخلوق میں سے کسی کا احسان۔''

     حضرت سیدنا ابو سلیمان مغربی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:'' میں تقریباً چھ ماہ اس جگہ ٹھہرا رہا، وہاں سے حلال پرندے شکار کرتا، کبھی ان کو بھون کر اور کبھی کچا ہی کھالیتا اور پھر شام کو ایک مسافر خانہ میں جاکر قیام کرتا۔ میری اس حالت سے لوگ باخبر ہوگئے اورجب مَیں مشہور ہو گیا تو لوگ میری عزت کر نے لگے۔ مَیں نے اپنے دل میں سوچا کہ اب یہاں رہنا مناسب نہیں۔
Flag Counter