Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
235 - 410
تمام ترمصیبتوں کے ساتھ بلاؤں کی صورت اختیار کرکے اس کے پاس آجاتی ہے ، او ریہی دنیا اپنی خوشیوں اور آرائشو ں کے ساتھ مزین ہے ،پس اس دنیا سے خوف زدہ بھی رہنا چاہے ، اس سے بچنابھی چاہے اور (بقد رِ ضرورت ) اس کی طرف رغبت کرنی چاہے ۔

    کچھ لوگ دنیا کی مذمت کرتے ہیں اور کچھ لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں اور دنیا تو عبرت اور نصیحت کی جگہ ہے ، جوچاہے اس سے عبرت ونصیحت حاصل کرے۔ 

    اے دنیا کی دھوکے بازیوں کی وجہ سے دنیا کو ملامت کرنے والے !کیا دنیا نے تجھے زبر دستی ذلت میں ڈالا ہے ؟ اس نے کب تجھے تیری منزل مقصود سے دور کیا؟ کیا اس نے تیرے آبا ؤاجداد کو مصیبت میں گرفتار نہ کیا ؟اے انسان !تو خود اپنے ہی ہاتھوں بیماری میں مبتلا ہے اگر تو چاہے تو مرضِ دنیا کا علاج خود ہی کرسکتا ہے ،تجھے اطبّاء کے پاس جانے کی حاجت نہیں، آج جو کرنا ہے کرلے ،دنیا میں غرق ہونے سے بچ، بقدرِ کفایت اس سے نفع حاصل کرلے، کل تجھے تیری تدابیر کام نہ آئیں گے۔ آج جو کرنا ہے کر لے ، یہ دنیانئے نئے رنگوں والی اورپچھا ڑنے والی ہے۔ 

    حضرت سیدنا علی بن محمد مدانی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں، اس نصیحت آموز تقریر کے بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قبر ستان والوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:''اے اہل قبور! تمہارے مرنے کے بعد تمہارے مال تقسیم ہوگئے ، تمہاری عورتوں نے شادی کر لی،اے اہل قبور! تمہارے مرنے کے بعد تمہارے مال تقسیم ہوگئے، عورتوں نے نئے نکاح کرلئے، یہ تو تمہارے بعد ہماری خبر ہے ،اب تم بتا ؤ کہ تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہوا ؟''پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:'' اے لوگو ! اگر انہیں کلام کرنے کی اجازت ہوتی تو اس طر ح کہتے :''بے شک بہترین زادِ راہ تقوی ہے۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)
حکایت نمبر112:             ایک عالم ربانی کی للہیت
    حضرت سیدنا مقاتل بن صالح خراسانی قدّس سرہ الربّانی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت سیدنا حماد بن سلمہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے دولت خانہ پر حاضر ہوا۔ آپ کے گھر میں صرف ایک چٹائی تھی جس پر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ تشریف فرما تھے اور آپ کے سامنے قرآن پاک رکھا ہو اتھااورآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ تلاوت فرمارہے تھے۔ اس کے علاوہ گھر میں ایک تھیلا رکھا ہوا تھا جس میں آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی کتابیں رکھی ہوئی تھیں ۔ ایک برتن تھا جس سے آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ وضو وغیرہ کیا کرتے تھے ، ان اشیاء کے
Flag Counter