| عُیونُ الحِکایات (حصہ اول) |
علاوہ گھر میں اور کوئی چیز نہ تھی ۔
میں آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے پاس بیٹھا ہوا تھاکہ کسی نے دروازے پر دستک دی۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے ایک بچے کو بھیجا: ''دیکھو!دروازے پر کون آیا ہے ؟'' بچہ باہر گیا اور کچھ دیر بعدآپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا ۔''آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے پوچھا : ''کون ہے ؟''اس نے جواب دیا:'' خلیفہ کا قاصد آنا چاہتا ہے۔'' آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:'' جاؤاور اس سے کہو کہ صرف تم اکیلے اندر آجا ؤ اور کسی کو ساتھ نہ لانا۔'' بچے نے قاصد کو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا پیغام دیا۔چنانچہ قاصد آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے پاس آیا اور ایک خط آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی بارگاہ میں پیش کیا ۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے وہ خط لیا اور اسے کھولا تو اس میں یہ الفاظ لکھے تھے:بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ؕ
محمد بن سلمان کی جانب سے حماد بن سلمہ کی طرف ،
امابعد!
اے حماد بن سلمہ! اللہ عزوجل آپ (رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ) کی صبح خیریت سے کرے جیسے وہ اپنے اولیاء اوراطاعت کرنے والوں کی صبح کرتا ہے۔ حضور!مجھے ایک مسئلہ درپیش ہے جس کے متعلق آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے گفتگو کرنی ہے۔
والسّلام
یہ خط پڑھ کر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے بیٹے سے فرمایا:'' جاؤ قلم دوات لے کر آؤ۔''پھر مجھے فرمایا کہ اس خط کے پیچھے یہ عبارت لکھو ۔
امّابعد!
(اے خلیفہ محمد بن سلمان!) اللہ عزوجل تیری صبح خیر سے کرے جس طرح اپنے فرمانبرداروں اور نیک بندو ں کی صبح کر تا ہے ۔ بے شک میں نے علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی صحبت پائی ہے او ران کی یہ عا دت رہی ہے کہ وہ کسی دنیادار کے پاس مسئلہ بتانے کے لئے نہیں جاتے ۔لہٰذااگر تجھے کوئی مسئلہ درپیش ہے تو تُو میرے پاس آجا۔ پھر مجھ سے سوال کر مَیں تجھے جواب دو ں گا۔ جب تُومیرے پاس آئے تو اکیلے ہی آنا او رگھوڑے وغیرہ پر سوار ہو کر نہ آنا ،نہ ہی اپنے ساتھ سپاہی وغیرہ لانا۔ مَیں نہ تو تجھے نصیحت کرنے والا ہوں اور نہ ہی اپنے آپ کو۔ والسلام
خلیفہ وقت محمد بن سلمان کا قاصدخط لے کر وہاں سے چلا گیا۔ میں آپ کے پاس ہی بیٹھا رہا ۔ کچھ دیربعد پھر دروازے پرد ستک ہوئی۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:'' جاؤ دیکھو! دروازے پر کون ہے؟'' بچہ فوراً گیا او ر واپس آکر جواب دیا :