ہے اور فضول کاموں میں اپنے مال کو استعمال نہ کیا ۔
بے شک تمہارے اسلاف دنیا سے بقدرِ ضرورت مال استعمال میں لاتے۔ باقی تمام مال اپنے رب عزوجل کی راہ میں خرچ کردیتے او رانہوں نے اپنے مال وجان کاجنت کے بدلے اللہ عزوجل سے سودا کر لیاتھا ۔
اے لوگو! بے شک اللہ عزوجل نے دنیا کو آزمائش کے لئے اور آخرت کو جزاکے لئے بنایا ہے اور انسان کوایمان کی دولت صرف اللہ عزوجل کی عطا ہی سے نصیب ہوتی ہے۔ اللہ عزوجل جسے چاہتا ہے ایمان کی عظیم دولت سے مالا مال فرما دیتا ہے۔ بے شک اللہ عزوجل کی رضا حاصل کرنے کا ایک ہی راستہ ہے جس کی بنیا دہدایت ہے۔ جو اس راستے پر سیدھا چلتا جائے گا اس کا ٹھکانہ جنت ہے اور شیطان کے کئی راستے ہیں جن کی اِبتدا ہی گمراہی سے ہوتی ہے اور جوان راستوں میں سے کسی بھی راستے پر چلے گا وہ سیدھا جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جاگر ے گا۔
خدا عزوجل کی قسم! اِیمان صرف زبانی کلامی دعوؤں کا نام نہیں کہ انسان دعوے کرتا پھرے کہ میں ایمان والا ہوں بلکہ ایمان تو دل کی تصدیق کا نام ہے جس کا اِقرار زبان سے ہوتا ہے۔جب دل میں پختہ یقین ہوتا ہے تو یہ یقین کی پختگی ایمان کہلاتی ہے اوراَعمالِ صالحہ اس ایمان کی تصدیق کرتے ہیں، لہٰذااے ایمان والو! نیک اعمال کے لئے خوب سعی کرو ۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)