سکوں۔'' یہ سن کر اس نے انکار کرتے ہوئے کہا :'' میرے حقوق بہت زیادہ ہیں۔'' توفرشتے نے کہا : ''مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں تجھے جانتا ہوں، کیا تُووہی نہیں جس کو کوڑھ کی بیماری لاحق تھی اور لوگ تجھ سے نفرت کیا کرتے تھے اور تو فقیر و محتاج تھا ،پھر اللہ عزوجل نے تجھے مال عطا کیا ۔'' اس نے کہا : ''مجھے تو یہ سارا مال ورا ثت میں ملا ہے اور نسل در نسل یہ مال مجھ تک پہنچا ہے۔'' فرشتے نے کہا : ''اگر تُو اپنی اس بات میں جھوٹا ہے تو اللہ تعالیٰ تجھے ایسا ہی کر دے جیسا تُو پہلے تھا ۔''
پھر وہ فرشتہ گنجے کے پاس اس کی پہلی صورت میں آیااور اس سے بھی وہی بات کہی جو برص والے سے کہی تھی ۔اس نے بھی برص والے کی طر ح جواب دیا ۔ فرشتے نے کہا: ''اگر تُو اپنی بات میں جھوٹا ہے تو اللہ عزوجل تجھے تیری سابقہ حالت پر لوٹا دے۔''پھر فرشتہ اندھے کے پاس اُس کی پہلی حالت میں آیااور کہا : ''میں ایک مسکین مسافر ہو ں اور میرا زادِراہ ختم ہو چکا ہے۔ آج کے دن میں اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکتا مگر اللہ عزوجل کی ذات سے اُمید ہے اور اس کے بعد مجھے تیرا آسرا ہے ۔ میں اسی ذات کا واسطہ دے کر تجھ سے سوال کرتا ہوں جس نے تجھے آنکھیں عطا فرمائیں کہ مجھے ایک بکری دے دے تاکہ میں اپنی منزل تک پہنچ سکوں ۔'' تو وہ کہنے لگا:'' میں تو پہلے اندھا تھا پھر اللہ عزوجل نے مجھے آنکھیں عطا فرمائیں تو جتنا چاہے اس مال میں سے لے لے اور جتنا چاہے چھوڑ دے۔'' خدا عزوجل کی قسم! تُو جتنا مال اللہ عزوجل کی خاطر لینا چاہے لے لے ،مَیں تجھے مشقت میں نہ ڈالوں گا (یعنی منع نہ کروں گا )۔''یہ سن کر فرشتے نے کہا : ''تیرا مال تجھے مبارک ہو ،یہ سارا مال تُو اپنے پاس ہی رکھ۔ تم تینوں شخصوں کاامتحان لیا گیا تھا ،تیرے لئے اللہ عزوجل کی رضا ہے اور تیرے دونوں دوستوں(یعنی کوڑھی اور گنجے)کے لئے اللہ عزوجل کی ناراضگی ہے۔''