Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
215 - 410
سکوں۔'' یہ سن کر اس نے انکار کرتے ہوئے کہا :'' میرے حقوق بہت زیادہ ہیں۔'' توفرشتے نے کہا : ''مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں تجھے جانتا ہوں، کیا تُووہی نہیں جس کو کوڑھ کی بیماری لاحق تھی اور لوگ تجھ سے نفرت کیا کرتے تھے اور تو فقیر و محتاج تھا ،پھر اللہ عزوجل نے تجھے مال عطا کیا ۔'' اس نے کہا : ''مجھے تو یہ سارا مال ورا ثت میں ملا ہے اور نسل در نسل یہ مال مجھ تک پہنچا ہے۔'' فرشتے نے کہا : ''اگر تُو اپنی اس بات میں جھوٹا ہے تو اللہ تعالیٰ تجھے ایسا ہی کر دے جیسا تُو پہلے تھا ۔''

    پھر وہ فرشتہ گنجے کے پاس اس کی پہلی صورت میں آیااور اس سے بھی وہی بات کہی جو برص والے سے کہی تھی ۔اس نے بھی برص والے کی طر ح جواب دیا ۔ فرشتے نے کہا: ''اگر تُو اپنی بات میں جھوٹا ہے تو اللہ عزوجل تجھے تیری سابقہ حالت پر لوٹا دے۔''پھر فرشتہ اندھے کے پاس اُس کی پہلی حالت میں آیااور کہا : ''میں ایک مسکین مسافر ہو ں اور میرا زادِراہ ختم ہو چکا ہے۔ آج کے دن میں اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکتا مگر اللہ عزوجل کی ذات سے اُمید ہے اور اس کے بعد مجھے تیرا آسرا ہے ۔ میں اسی ذات کا واسطہ دے کر تجھ سے سوال کرتا ہوں جس نے تجھے آنکھیں عطا فرمائیں کہ مجھے ایک بکری دے دے تاکہ میں اپنی منزل تک پہنچ سکوں ۔'' تو وہ کہنے لگا:'' میں تو پہلے اندھا تھا پھر اللہ عزوجل نے مجھے آنکھیں عطا فرمائیں تو جتنا چاہے اس مال میں سے لے لے اور جتنا چاہے چھوڑ دے۔'' خدا عزوجل کی قسم! تُو جتنا مال اللہ عزوجل کی خاطر لینا چاہے لے لے ،مَیں تجھے مشقت میں نہ ڈالوں گا (یعنی منع نہ کروں گا )۔''یہ سن کر فرشتے نے کہا : ''تیرا مال تجھے مبارک ہو ،یہ سارا مال تُو اپنے پاس ہی رکھ۔ تم تینوں شخصوں کاامتحان لیا گیا تھا ،تیرے لئے اللہ عزوجل کی رضا ہے اور تیرے دونوں دوستوں(یعنی کوڑھی اور گنجے)کے لئے اللہ عزوجل کی ناراضگی ہے۔''
(بخاری شریف ،کتاب احادیث الانبیاء، باب حدیث ابرص واعمیٰ واقرع۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۳۴۶۴،ص۲۸۲،۲۸۳)
    اے ہمارے پیارے اللہ عزوجل! ہمیں مال کے وبال اور اپنی ناراضگی سے بچا کر اپنی دائمی رضا عطا فرما ،اورہم سے ایسا راضی ہو جا کہ پھر کبھی نا راض نہ ہو۔ آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)

؎ عفو کر اور سدا کے لئے راضی ہو جا            گرکرم کردےتوجنت میں رہوں گا یا رب عزوجل !
حکایت نمبر102:         نو جوانوں کو کیسا ہونا چاہے
    حضرت سیدنا سعیدحربی علیہ رحمۃاللہ القوی فرمایا کرتے تھے:''کچھ نوجوان ایسے ہیں کہ اپنی نوجوانی اور کم عمری کے باوجود
Flag Counter