وایثار اوریقینِ کا مل کی عظیم نعمتیں عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم۔ مذکورہ حکایت کی طرح کاایک واقعہ کتب حدیث میں موجود ہے۔چنانچہ حضورنبی کریم،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے بیان فرمایاکہ، '' بنی اسرائیل میں تین شخص تھے۔ایک برص(کوڑھ) کا مریض، دوسرا گنجا ،تیسرا اندھا ۔ اللہ عزوجل نے ان کی آزمائش کے لئے ایک فرشتہ (بشری صورت میں) ان کے پاس بھیجا۔پہلے وہ برص کے مریض کے پاس آیااوراس سے پوچھا:''تجھے سب سے زیادہ کون سی چیزمحبوب ہے؟''اس نے کہا:''مجھے اچھارنگ اوراچھی جِلد پسند ہے اور میری خواہش ہے کہ جس بیماری کی وجہ سے لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں وہ مجھ سے دورہوجائے۔'' فرشتے نے اس کے جسم پر ہاتھ پھیراتواس کی وہ بیماری جاتی رہی، اس کا رنگ بھی اچھا ہو گیا اور جِلد بھی اچھی ہو گئی۔'' فرشتے نے پھر اس سے پوچھا: '' تجھے کو ن سا ما ل زیادہ پسند ہے ؟''اس نے کہا:'' مجھے اونٹنی پسند ہے ۔'' اسی وقت اسے دس ماہ کی حاملہ اونٹنی دے دی گئی، اور فرشتے نے دعادی : ''اللہ تعالیٰ تجھے اس میں برکت دے ۔''
پھروہ فرشتہ گنجے کے پاس آیا اور اس سے پوچھا :'' تجھے کون سی شے سب سے زیادہ محبوب ہے ؟''اس نے کہا: ''مجھے خوبصورت بال زیادہ پسند ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ جس چیز کی وجہ سے لوگ مجھ سے گِھن کھاتے ہیں وہ دور ہوجائے۔'' فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اس کی وہ شے جاتی رہی جس سے لو گ گِھن کھاتے تھے اور اس کے سر پر بہترین بال آگئے۔''فرشتے نے پوچھا: ''تجھے کون سا مال زیادہ پسند ہے ؟''اس نے کہا:'' مجھے گائے بہت پسند ہے ۔ ''چنانچہ اسے ایک گابھن گائے دے دی گئی۔ فرشتے نے اس کے لئے دعا کی :'' اللہ تعالیٰ تیرے لئے اس میں برکت دے۔''
پھر فرشتہ اندھے کے پاس آیا اور اس سے کہا :'' تجھے سب سے زیادہ کون سی چیز محبوب ہے ؟''اس نے کہا: ''مجھے یہ پسند ہے کہ اللہ عزوجل میری بینائی مجھے واپس کردے تاکہ میں لوگو ں کو دیکھ سکوں۔''فرشتے نے اس پرہاتھ پھیرا تو اس کی آنکھیں روشن ہو گئیں ۔''پھر اس سے پوچھا :'' تجھے کون سا مال زیادہ محبوب ہے ؟'' اس نے کہا :'' مجھے بکریا ں(بہت زیادہ محبوب ہیں )۔'' چنانچہ اسے ایک گابھن بکری دے دی گئی ۔
اب اونٹنی ،گائے اور بکری نے بچے دینا شروع کئے۔ کچھ ہی عرصے میں ان کے جانور اِتنے بڑھے کہ ایک کے اونٹوں ، دوسرے کی گائیوں اور تیسرے کی بکریوں سے ایک پوری وادی بھر گئی ۔پھر فرشتہ اس برص کے مریض کے پاس اس کی پہلی صورت یعنی برص کی حالت میں آیا اور اس سے کہا:'' میں ایک غریب و مسکین شخص ہوں، میرے پاس زادِراہ ختم ہوگیا ہے اور واپس جانے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی مگر اللہ عزوجل کی رحمت سے اُمید ہے اور مَیں تیری مدد کا طلب گار ہوں۔ جس ذات نے تجھے خوبصورت رنگ ،اچھی جِلد اور مال عطا کیامیں تجھے اس کا واسطہ دیتا ہوں کہ آج مجھے ایک اُونٹ دے دے تا کہ میں اپنی منزل تک پہنچ