Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
216 - 410
اُڈھیر عمر کے دکھائی دیتے ہیں ، ان کی نظریں کبھی بھی حرام چیز کی طرف نہیں اٹھتیں ، ان کے کان ہمیشہ حرام اورلہو ولعب کی باتیں سننے سے محفو ظ رہتے ہیں ، ان کے قدم حرام وباطل اشیاء کی طر ف نہیں اٹھتے بلکہ بہت زیادہ بوجھل ہوجاتے ہیں ، ان کے پیٹ میں کبھی بھی حرام اشیاء داخل نہیں ہوتیں۔ ایسے لوگ اللہ عزوجل کو محبوب ہیں۔

    آدھی رات کو وہ قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں اور رکوع وسجود کرتے ہیں تو اللہ رب العزت عزوجل ان پررحمت بھری نظرفرماتاہے، ان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ قرآن پاک پڑھتے وقت ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں۔ جب کبھی وہ ایسی آیت کی تلاوت کرتے ہیں جس میں جنت کا تذکرہ ہوتا ہے تو ا س جنت کی محبت میں رونے لگتے ہیں اور جب ایسی آیت تلاوت کرتے ہیں جس میں جہنم کا تذکر ہ ہو تو جہنم کے خوف سے چیخنے لگتے ہیں ۔ایسا لگتا ہے جیسے وہ جہنم کی چنگھاڑ کو سن رہے ہیں اور آخرت بالکل ان کی نظرو ں کے سامنے ہے ۔

     یہ پاکیزہ نوجوان اتنی کثرت سے نماز پڑھتے ہیں کہ زمین ان کی پیشانیوں اور گھٹنوں کو کھا گئی ہے (یعنی کثرتِ سجود کی وجہ سے ان کی نورانی پیشانیوں او رگھٹنوں پر داغ پڑگئے ہیں او رگو شت خشک ہوچکاہے )

    شب بھر قیام کرنے او ر د ن بھر رو زہ رکھنے کی وجہ سے ان کے رنگ متغیر ہوگئے ہیں ،یہ لوگ موت کی تیاری میں مشغول ہیں اور ان کی یہ تیاری کتنی عظیم ہے او ران کی کوششیں کتنی عمدہ ہیں،ساری ساری رات رو کر گزار دیتے ہیں او راپنی آنکھوں سے نیند کو دو ر رکھتے ہیں ،ان کا دن اس حالت میں گزرتا ہے کہ یہ رو زہ رکھتے ہیں اورآخرت کی فکر میں غمگین رہتے ہیں، انہیں ہر وقت غمِ آخرت لاحق رہتا ہے ۔جب کبھی ان کے سامنے دنیا کا تذکرہ ہوتا ہے تو ان کی دنیا سے بے رغبتی میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے کیونکہ یہ دنیا کی حقیقت کو جانتے ہیں کہ یہ دنیا فانی ہے ۔ پھر جب کبھی ان کے سامنے آخرت کا تذکرہ ہوتا ہے تو آخرت کی طر ف انہیں مزید رغبت پیدا ہوتی ہے کیونکہ یہ جانتے ہیں کہ آخرت کی نعمتیں ہمیشہ رہنے والی ہیں۔ دنیا ان کی نظروں میں بہت حقیر ہے اوریہ اس سے شدید نفرت کرتے ہیں ۔

    ان کے نزدیک دُنیوی زندگی مصیبت ہے کیونکہ اس میں فتنے ہی فتنے ہیں اور راہِ خد ا عزوجل میں شہید ہونا انہیں بہت زیادہ محبوب ہے کیونکہ انہیں اللہ عزوجل کی ذات سے اُمید ہے کہ شہادت کے بعد راحت وآرام اور عیش و عشرت کی زندگی ہے۔ یہ کبھی بھی نہیں ہنستے ،یہ ا پنے لئے نیک اعمال کا ذخیرہ اکٹھا کررہے ہیں کیونکہ انہیں آخرت کی ہولنا کیوں کا اندازہ ہے ۔

    جہاد کااعلان سن کریہ فورا ًاپنی سواریوں پر بیٹھتے ہیں ، اور میدان کا رزار کی طرف روانہ ہوجاتے ہیں گویا پہلے ہی سے انہوں نے اپنے آپ کو جہاد کے لئے تیار کر رکھا ہے۔ پھر جب صف بندی ہوتی ہے اور لشکر آپس میں ملتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ دشمنوں کی طر ف سے نیز ہ بازی شرو ع ہوگئی ہے، تیر برسنے لگے ہیں، تلواریں آپس میں ٹکرانے لگی ہیں ، ہر طرف موت کی