ہوگی؟'' جب جوہری نے وہ موتی دیکھا تو اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں او روہ حیران ہو کر کہنے لگا:'' تیرے پاس یہ موتی کہاں سے آیا ہے ؟'' اس نیک آدمی نے جواب دیا :'' ہمیں اللہ ربّ العزت عزوجل نے یہ رزق عطا فرمایا ہے۔'' جو ہری نے کہا:'' یہ تو بہت قیمتی موتی ہے اور میں تو اس کی صرف تیس ہزار (درہم) قیمت ادا کر سکتا ہوں، حقیقت یہ ہے کہ اس کی مالیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ تم ایسا کرو کہ فلاں جو ہری کے پاس چلے جاؤ وہ تمہیں اس کی پوری قیمت دے سکے گا۔''
چنانچہ وہ نیک شخص اس موتی کو لے کر دوسرے جوہری کے پاس پہنچا ۔جب اس نے قیمتی موتی دیکھا تو وہ بھی اسے دیکھ کر حیران رہ گیا او رپوچھا : ''یہ تمہارے پاس کہاں سے آیا؟'' ا س عا بد نے وہی جواب دیاکہ یہ ہمیں اللہ عزوجل کی طرف سے رزق عطا کیا گیا ہے ۔''جوہری نے کہا :'' اس کی قیمت کم از کم ستر ہزار (درہم) ہے ، مجھے تو اس شخص پر افسوس ہو رہا ہے جس نے تمہیں اتنا قیمتی موتی دیاہے بہرحال ستر ہزاردرہم لے لو او ریہ موتی مجھے دے دو ۔
میں تمہارے ساتھ دو مزدور بھیجتا ہوں، وہ ساری رقم اٹھا کر تمہارے گھر تک چھوڑ آئیں گے۔چنانچہ اس جوہری نے دو مزدوروں کو درہم دے کر اس نیک شخص کے ساتھ روانہ کردیا۔ جب وہ عابد اپنے گھر پہنچا تو اس کے پاس ایک سائل آیا اور اس نے کہا:'' مجھے اس مال میں سے کچھ مال دے دو جو تمہیں اللہ عزوجل نے عطا کیا ہے ۔''
تو اس نیک شخص نے کہا:'' ہم بھی کل تک تمہاری طر ح محتاج او رغریب تھے ۔یہ لو تم اس میں سے آدھا مال لے جاؤ۔ پھر اس نے مال تقسیم کرنا شرو ع کردیا۔ یہ دیکھ کر اس سائل نے کہا : ''اللہ عزوجل تمہیں برکتیں عطا فرمائے، میں تواللہ عزوجل کا ایک فرشتہ ہوں، مجھے تمہاری آزمائش کے لئے بھیجا گیا تھا۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي الله تعالي عليه وسلم)
( میٹھے میٹھے اسلامی بھا ئیو! یہ حقیقت ہے کہ جو شخص کسی کی مدد کرتا ہے اللہ عزوجل اس کی مدد کرتا ہے۔ دوسروں کا خیرخواہ کبھی نامراد نہیں ہوتا، جو کسی پر رحم کرتا ہے اللہ عزوجل اس پر رحم کرتا ہے ، اور صدقہ کرنے سے مال میں کمی نہیں آتی بلکہ برکت ہوتی ہے اور جولوگ مال کی محبت دل میں نہیں بٹھاتے وہی لوگ سخاوت جیسی نعمت سے حصہ پاتے ہیں۔جو شخص اللہ عزوجل سے اُمید واثق رکھے اللہ عزوجل اس کو کبھی رُسوا نہیں فرماتا۔)اس حکایت میں ایک نیک شخص کی سخاوت اور یقین کا مل کی عظیم مثال موجود ہے کہ اس نے ایک سائل کو آدھا مال دینا منظور کرلیا او ردو سرا یہ کہ خود اپنے لئے کھانے کی شدید حاجت کے باوجود اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر اپنا حصہ اپنے دوسرے حاجت مندبھائی کودے دیا ،پھر اللہ عزوجل نے بھی اسے ایسا نوا زا اور ایسی جگہ سے رزق عطا کیا جہاں سے اس کاوہم وگمان بھی نہ تھا۔ اللہ عزوجل ہمیں ہر وقت اپنی رحمتِ کا ملہ کا سایہ عطا فرمائے رکھے اور سخاوت