| عُیونُ الحِکایات (حصہ اول) |
پھر ہم واپس ہوئے اور تمام کشتیاں دوبارہ ایک ساتھ چلنے لگیں جب اللہ عزوجل نے ہمیں خیریت سے اپنی منزل تک پہنچا دیا، تو حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے رفقاء کے ساتھ بندر گاہ کی طرف روانہ ہوئے ۔ آپ نے مالِ غنیمت کی تقسیم پرکوئی اعتراض نہ کیا حالانکہ ان لوگوں نے ہمیں مالِ غنیمت میں سے ایک دینار بھی نہ دیاتھا۔ ہم نے باقی مسافروں میں سے ایک سے پو چھا: ''تمہیں کتنا کتنا حصّہ مالِ غنیمت ملا؟'' اس نے کہا :'' ہم میں سے ہر ایک کو تقریباً ایک سوبیس سو نے کی اشرفیاں ملیں۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)
(میٹھے میٹھے اسلامی بھا ئیو!سبحان اللہ عزوجل !قربان جائیں بزرگوں کی شانِ بے نیازی پر کہ جن کی برکت سے فتح ہوئی ان کو ایک درہم بھی نہ ملالیکن پھر بھی مطالبہ نہ کیا ، وہ دنیا وی دولت کے خواہاں نہ تھے بلکہ انہیں تو صرف اللہ عزوجل کی رضا مطلوب تھی، اللہ عزوجل ہمیں بھی ان بزرگوں کے صدقے اخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائے اور دنیاوی مال کے وبال سے بچائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)حکایت نمبر97: ایک ناشپاتی سے چار دن کی بھوک جاتی رہی
حضرت سیدناسعیدبن عثمان علیہ رحمۃاللہ المنّان فرماتے ہیں :'' ایک دن ہم حضرت سیدنا محمدبن منصور علیہ رحمۃاللہ الغفور کی خدمت میں حاضر تھے ۔آپ کی بارگاہ میں اس وقت زاہدوں اور محدثین کی کثیر تعداد موجود تھی ،آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمانے لگے: ''ایک دن میں نے روزہ رکھا اورارادہ کیا کہ اس وقت تک کوئی شے نہیں کھاؤں گا جب تک مجھے معلوم نہ ہو جائے کہ یہ بالکل حلال ذریعے سے حاصل کی گئی ہے اور اس میں کسی قسم کا شبہ نہیں ۔
اس طرح میرا ایک دن گزر گیا لیکن ایسی کوئی شے نہ ملی پھر دوسرا دن گزر گیا لیکن میں نے کوئی چیز نہ کھائی یہا ں تک کہ تین دن گزر گئے لیکن میں نے کوئی چیز نہ کھائی صرف چندگھونٹ پانی پی کر گزارہ کیا۔ چوتھے دن میں نے کہا کہ آج میں اس عظیم ہستی کے ہاں کھانا کھاؤں گا جس کے رزق کو اللہ عزوجل نے حلال و طیب رکھا ہے اور اس میں کسی قسم کا شبہ نہیں۔''چنانچہ مَیں حضرت سیدنامعروف کرخی علیہ رحمۃاللہ القوی کی بارگاہ میں حاضری کے لئے روانہ ہوا ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مسجد میں تھے، میں نے سلام کیا اور آپ کے پاس بیٹھ گیا۔ مغرب کی نماز کے بعد سب نمازی چلے گئے۔ ہم دونوں کے علاوہ صرف ایک اور شخص مسجد میں باقی رہا تو حضرت سیدنامعروف کرخی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:'' اے طوسی۔''میں نے کہا: ''حضور میں حاضر ہو ں ۔''