آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:'' اے طوسی! تُو اپنے بھائی کے پاس اس لئے آیا ہے کہ وہ تیرے ساتھ عیش و عشرت کی زندگی گزارے ۔''میں نے دل میں کہا :میں نے تو چار دنوں سے کچھ بھی نہیں کھایا اور بھوک سے میری حالت خراب ہو رہی ہے، میرے پاس رات کے کھا نے کو کچھ بھی نہیں۔ ''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کچھ دیر خاموش رہے، پھر فرمایا:'' میرے قریب آؤ۔'' میں بڑی مشکل سے اُٹھا کمزوری کی وجہ سے اٹھنا مشکل ہو رہا تھا بہر حال میں قریب چلا گیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے میرا سیدھا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنی اُلٹی آستین میں داخل کیا تو مجھے وہاں ناشپاتی جیسا ایک پھل ملا جو کچھ سخت تھا اور ایسا محسوس ہو تا تھا جیسے اسے دانتوں سے چبایا گیاہو ۔
میں نے وہ پھل کھا یا تو اس میں مجھے بہترین قسم کا ذائقہ محسو س ہوا ۔وہ پھل اتنا لذیذ تھا کہ اس کاذائقہ بیان سے باہر ہے۔ اسے کھاتے ہی میری بھوک ختم ہو گئی اور پانی کی بھی حاجت نہ رہی،یہ دیکھ کر مسجد میں بیٹھے ہوئے اس اَجنبی شخص نے کہا : کیا تم ہی ابو جعفر ہو؟ میں نے کہا :''جی ہاں!میں ہی ابو جعفر ہوں اور میں نے آج تک کبھی بھی ایسا لذیذ اور خوش ذائقہ پھل نہیں کھایا جیسا آج کھایاہے ۔''پھر حضرت سیدنا محمد بن منصورعلیہ رحمۃ اللہ الغفور ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:'' جب تک میں دنیا میں زندہ رہو ں تم میرے اس واقعے کی ہرگز تشہیر نہ کرنا ۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)