Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
208 - 410
    آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:'' اے طوسی! تُو اپنے بھائی کے پاس اس لئے آیا ہے کہ وہ تیرے ساتھ عیش و عشرت کی زندگی گزارے ۔''میں نے دل میں کہا :میں نے تو چار دنوں سے کچھ بھی نہیں کھایا اور بھوک سے میری حالت خراب ہو رہی ہے، میرے پاس رات کے کھا نے کو کچھ بھی نہیں۔ ''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کچھ دیر خاموش رہے، پھر فرمایا:'' میرے قریب آؤ۔'' میں بڑی مشکل سے اُٹھا کمزوری کی وجہ سے اٹھنا مشکل ہو رہا تھا بہر حال میں قریب چلا گیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے میرا سیدھا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنی اُلٹی آستین میں داخل کیا تو مجھے وہاں ناشپاتی جیسا ایک پھل ملا جو کچھ سخت تھا اور ایسا محسوس ہو تا تھا جیسے اسے دانتوں سے چبایا گیاہو ۔

    میں نے وہ پھل کھا یا تو اس میں مجھے بہترین قسم کا ذائقہ محسو س ہوا ۔وہ پھل اتنا لذیذ تھا کہ اس کاذائقہ بیان سے باہر ہے۔ اسے کھاتے ہی میری بھوک ختم ہو گئی اور پانی کی بھی حاجت نہ رہی،یہ دیکھ کر مسجد میں بیٹھے ہوئے اس اَجنبی شخص نے کہا : کیا تم ہی ابو جعفر ہو؟ میں نے کہا :''جی ہاں!میں ہی ابو جعفر ہوں اور میں نے آج تک کبھی بھی ایسا لذیذ اور خوش ذائقہ پھل نہیں کھایا جیسا آج کھایاہے ۔''پھر حضرت سیدنا محمد بن منصورعلیہ رحمۃ اللہ الغفور ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:'' جب تک میں دنیا میں زندہ رہو ں تم میرے اس واقعے کی ہرگز تشہیر نہ کرنا ۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)
حکایت نمبر98:              گدڑی میں لعل
    حضرت سیدنا احمد بن بکر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں،میں نے حضرت سیدنا یحییٰ بن معاذ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کویہ فرماتے ہوئے سنا کہ ''ایک مرتبہ سفر کرتے ہوئے میں ایک ویران جنگل میں پہنچا۔کچھ دور بانس کی بنی ہوئی ایک جھونپڑی نظر آئی۔ میں اسی طرف چل دیا۔ وہاں میں نے ایک بوڑھا شخص دیکھا جو کوڑھ کے مرض میں مبتلاتھا اورکیڑے اس کے جسم کو کھارہے تھے۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر مجھے اس پربہت ترس آیا، میں نے کہا :'' اے بزرگ! اگر آپ چاہیں تو میں اللہ عزوجل سے دعا کروں کہ وہ آپ کو صحت عطا فرمادے ؟'' میری یہ بات سن کر جب اس بزرگ نے اپناسر اوپر اٹھایا تومعلوم ہوا کہ وہ نابینا ہے۔ پھر اس نے کہا :''اے یحییٰ بن معاذ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ! اگر تجھے اپنی دعا کی قبولیت پر اتنا ہی ناز ہے تو اپنے لئے دعا کیوں نہیں کرتا کہ اللہ عزوجل تیرے دل سے اناروں کی محبت نکال دے ؟''اس بزرگ کی یہ بات سن کر میں بہت حیران ہوا ۔میں نے ا للہ عزوجل سے عہد کیا تھا کہ نفسانی خواہش کی خاطر کبھی بھی کوئی چیز نہ کھاؤں گا بلکہ جس چیز کی نفس تمنا کریگا اسے ترک کر دوں گالیکن مجھے انار بہت پسند تھے، انہیں ترک کرنے پر
Flag Counter