سے کوئی کلام سُنا،یکایک ایک غیبی آواز گونجی، کوئی کہنے والا کہہ رہا تھا :'' اے آنے والی شدید ہوا ؤ!اور ا ے مضطرب موجو! تم ٹھہر جاؤ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے اوپر ابراہیم بن ادہم(علیہ رحمۃ اللہ الاکرم ) موجود ہے۔ یہ آواز گونج رہی تھی لیکن معلوم نہیں کہ یہ آواز کہا ں سے آرہی تھی۔ نہ تو سمند ر میں کوئی شخص نظر آرہا تھا نہ ہی آسمان کی طرف کوئی ایسا شخص تھا جو یہ صدا بلند کر رہا ہو ، پھر اس آواز کے گونجتے ہی ہوائیں بالکل بند ہو گئیں، اندھیرا چھٹ گیا اور سمندر میں سکون آگیا ،ایک بارپھر ساری کشتیا ں ایک ساتھ سفر کرنے لگیں ۔
پھر سب کشتیوں کے مالکوں نے آپس میں ملاقات کی ،ان میں سے کسی نے کہا :'' کیا تم نے سمندری طوفان کے وقت غیبی آ واز سُنی تھی؟''سب نے بیک زبان کہا: ''ہاں! ہم نے آواز سُنی تھی ۔''پھر سب نے مشورہ کیا کہ جب ہم ساحل پر پہنچیں گے تو ہر شخص کو اس کے رفقاء کے ساتھ کر دیں گے تاکہ ہمیں معلوم ہو جائے کہ وہ غیبی آواز کس شخص کے متعلق تھی پھر ہم اس عظیم شخص سے دعا کروائیں گے جس کی برکت سے ہم ہلاکت سے بچ گئے ۔''
جب کشتیاں ساحل سمندر پر پہنچیں توسب لوگوں نے مطلوبہ قلعے کی طرف پیش قدمی کی۔جب قریب پہنچے تو معلو م ہوا کہ یہ قلعہ تو بہت مضبوط ہے اور اس کے دروازے لوہے کے ہیں ،بظاہر اس کو فتح کرنا بہت دشوار تھا، سب شش و پنج میں تھے۔ بالآخر حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:'' اے لوگو!جس طرح میں کہوں تم بھی اسی طرح کہنا ،پھر آ پ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے یہ کلمات کہے:'' لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ۔ ''لوگوں نے بھی یہ پاکیزہ کلمات کہے،یکایک قلعے کی دیوار سے ایک بہت بڑا پتھر گرپڑا آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے دوبارہ فرمایا : ''جس طرح میں کہوں تم بھی ایسے ہی کہنا۔''چنانچہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پھر یہی کلمات فرمائے :'' لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرْ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ۔''لوگوں نے بھی یہ کلمات دہرائے پھر ایک بہت بڑا پتھر قلعے کی دیوار سے گرگیا۔
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے تیسری بار بھی یہی کلمات دہرائے اور لوگوں نے بھی کہے تو دیوار سے پھرایک پتھر گرگیا اور دیوار میں اتنا شگاف ہو گیاکہ باآسا نی اس سے گزرا جا سکے۔
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :'' اے لوگو !جاؤاللہ عزوجل کا نام لے کر قلعے میں داخل ہوجاؤ،اللہ عزوجل بر کت عطا فرمائے گا لیکن میں تمہیں ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں:''تم کسی پر ظلم مت کرنا اورحد سے تجاوز نہ کرنا، میری اس بات کو اچھی طرح یاد رکھنا۔''لوگ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی نصیحتیں سننے کے بعد قلعے میں داخل ہوگئے۔ وہ کہتے ہیں کہ و ہاں سے ہمیں بغیر جہاد کئے اتنا مالِ غنیمت حاصل ہوا کہ ہماری کشتیاں بوجھ سے بھر گئیں ۔