سب سے زیادہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہی غمگین نظر آتے اور ایسا لگتا جیسے آپ پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ہوں اور آپ کے کلیجے کو غموں نے چھلنی کر دیا ہو ،آپ کے پاخانہ اور پیشاب میں خون کی آمیزش ہوتی۔ ہمیں اس کی وجہ یہی نظر آتی کہ شدتِ غم کی وجہ سے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی یہ حالت ہو گئی ہے ۔
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہمیں وصیت کرتے ہوئے فرماتے:'' لوگو ں سے کنارہ کشی اختیار کرلو ،جسے تم نہیں جانتے اسے جاننے کی کوشش نہ کرو اور جسے جانتے ہو اس سے بھی دور رہنے میں ہی عافیت ہے ۔''
اسی طرح کی نصیحتیں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمایاکرتے تھے ۔حضرت سیدناابراہیم بن بشاررحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ''ایک مرتبہ حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے ساتھ میں ،حضرت سیدناابو یوسف الغسولی اورحضرت ابو عبدا للہ سنجاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جہاد کے لئے روانہ ہوئے ،چنانچہ ہم چاروں ساحل سمندر پر پہنچے اور کشتی میں سوار ہو گئے ۔ جب کشتی چلنے لگی تواس میں سے ایک شخص کھڑا ہوااور کہنے لگا:'' سب مسافر ایک ایک دینار کرایہ ادا کریں، چنانچہ سب نے کرایہ دینا شروع کیا۔ ہماری حالت یہ تھی کہ ہمارے لباس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی شئے نہ تھی ۔ جب وہ شخص ہمارے پاس آیا تو حضرت سیدناابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کھڑے ہوئے اور کشتی سے اُتر کر ساحل پر چلے گئے،تھوڑی ہی دیر کے بعد آپ واپس آئے تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس چارایسے دینار تھے جن کی چمک سے آنکھیں چندھیا رہی تھیں۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ان دیناروں سے کرایہ ادا کیا ۔
کشتی کے لنگر اٹھا دیئے گئے اور سفر شروع ہو گیا،ہماری کشتی کے ساتھ دوسرے مما لک اسکندریہ، عسقلان، تِنِّیس اور دَقیاط وغیرہ کی کشتیاں بھی سفر کر رہی تھیں۔اس طرح تقریباًسولہ یا سترہ کشتیوں نے ایک ساتھ سفر شروع کیا،قافلے جانبِ منزل رواں دواں تھے کہ ایک رات اچانک تیزہوائیں چلنا شروع ہوگئیں، ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا چھا گیا ،سمندر میں بھو نچال سا آگیا،طوفان کا سلسلہ شروع ہوگیا ،موجوں میں اِضطراب بڑھتاہی جارہاتھا،ہمیں اپنی ہلاکت کایقین ہو چکا تھا ، سب لوگو ں نے ہاتھ اُٹھا ئے اور گڑ گڑاکر دعا ئیں مانگنے لگے۔
حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اپنی چادر اوڑھے اطمینا ن وسکون سے ایک جانب سو رہے تھے۔ ایک شخص نے جب آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو اس طرح سوتے دیکھاتو آپ کے قریب آ کر کہنے لگا:'' اے اللہ عزوجل کے بندے! سمندر میں طوفان آیا ہوا ہے، ہم سب موت کے منہ میں پہنچ چکے ہیں پھر بھی آپ اطمینان سے سورہے ہیں۔آپ بھی ہمارے ساتھ مل کر دعا کریں کہ اللہ عزوجل ہمیں اس مصیبت سے نجات عطا فرمائے۔
یہ سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے آسمان کی طرف سر اٹھایا۔ہم نے نہ تو آپ کے ہونٹ ہلتے دیکھے اورنہ ہی آپ کے منہ