بیدارہوا تو اس نے دیکھا کہ تکیے کے نیچے دو دینار موجود تھے۔
پھر دوسری صبح جب اس نے تکیہ اٹھایاتو وہاں دینار موجود نہ تھے،اسے بڑا غُصّہ آیا اور کلہاڑ ااٹھا کر پھر درخت کاٹنے چلا۔شیطان پھرانسان کی شکل میں اس کے پاس آیا اور کہا:''کہاں کا ارادہ ہے؟''وہ کہنے لگا : ''مَیں اس درخت کو کاٹنے جارہا ہوں جس کی لوگ عبادت کرتے ہیں، میں یہ برداشت نہیں کرسکتا کہ لوگ غیر خداکی عبادت کریں ،لہٰذامیں اس درخت کو کاٹ کر ہی دم لوں گا۔''شیطان نے کہا: ''تُو جھوٹ بول رہاہے،اب تُوکبھی بھی اس درخت کو نہیں کاٹ سکتا ۔''چنانچہ شیطان اور اس شخص کے درمیان پھر سے کُشتی شروع ہوگئی۔ اِس مرتبہ شیطان نے اس شخص کو بری طرح پچھاڑدیا اور اس کا گلا دبا نے لگا قریب تھا کہ اس شخص کی موت واقع ہو جاتی۔اس نے شیطان سے پوچھا: ''یہ تو بتا کہ تُو ہے کون؟'' شیطان نے کہا: ''میں ابلیس ہوں اور جب تُوپہلی مرتبہ درخت کاٹنے چلاتھاتواس وقت بھی میں نے ہی تجھے روکا تھا لیکن اس وقت تُو نے مجھے گرا دیا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت تیرا غصہ اللہ عزوجل کے لئے تھا لیکن اس مرتبہ میں تجھ پر غالب آگیا ہو ں کیونکہ اب تیراغُصّہ اللہ تعالیٰ کے لئے نہیں بلکہ دیناروں کے نہ ملنے کی وجہ سے ہے۔ لہٰذا اب تو کبھی بھی میرا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔''
(اے ہمارے پیارے اللہ عزوجل ! ہمیں ہر عمل میں اخلاص عطا فرمااور ریاکاری کی مذموم بیماری سے ہماری حفاظت فرما کر ہمیں ہر عمل صرف اپنی رضا کی خاطر کرنے کی توفیق عطا فرما اورہمیں اپنے مخلص بندو ں میں شامل فرما۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم )
؎ میرا ہر عمل بس ترے واسطے ہو کر اِخلاص ایسا عطا یا الٰہی عزوجل