Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
203 - 410
انہوں نے پوچھا: ''نجات کابہترین راستہ کیا ہے ؟''

     راہب نے جواب دیا:'' تمہارے نیک اعمال جو تم آگے بھیجتے ہو وہ تمہاری نجات کا باعث بنیں گے۔'' اہلِ قافلہ نے کہا: '' اے راہب !ہمیں مزید نصیحت کرو۔''اس نے کہا :'' اپنے لئے اتنا ہی زادِراہ لو جتنا تمہارا سفر ہے اور دنیاوی سفر کے لئے صرف اتنا ہی توشہ کافی ہے جتنا ایک جانور کے لئے ہوتا ہے ۔''اس کے بعد راہب نے اہل قافلہ کوراستہ بتایا اور اپنی عبادت گاہ میں داخل ہو گیا۔''
حکایت نمبر95:               اخلاص فروش مسلمان
    حضرت سیدنا مبارک بن فُضالہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت سیدنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کر تے ہیں: ''کسی علاقے میں ایک بہت بڑا درخت تھا ،لوگ اس کی پوجا کیا کرتے تھے اور اس طرح اس علاقے میں کفر و شرک کی وبا بہت تیزی سے پھیل رہی تھی۔ایک مسلمان شخص کا وہاں سے گزر ہوا تو اسے یہ دیکھ کر بہت غُصّہ آیا کہ یہاں غیر اللہ کی عبادت کی جارہی ہے ۔چنانچہ وہ جذبہ توحید سے معمور بڑی غضبناک حالت میں کلہاڑا لے کر اس درخت کو کاٹنے چلا،اس کے ایمان نے یہ گوارا نہ کیا کہ اللہ عزوجل کے سوا کسی اور کی عبادت کی جائے ۔اسی جذبہ کے تحت وہ درخت کاٹنے جا رہا تھا کہ شیطان مردود اس کے سامنے اِنسانی شکل میں آیا اور کہنے لگا :''تُو اتنی غضبناک حالت میں کہا ں جا رہا ہے ؟''اس مسلمان نے جواب دیا : ''میں اس درخت کو کاٹنے جا رہا ہوں جس کی لوگ عبادت کرتے ہیں ۔''یہ سُن کر شیطان مردود نے کہا :'' جب تُو اس درخت کی عبادت نہیں کرتا تو دوسروں کا اس درخت کی عبادت کرنا تجھے کیا نقصان دیتاہے ؟تُو اپنے اس ارادے سے باز رہ اور واپس چلا جا ۔''اس مسلمان نے کہا : ''میں ہرگز واپس نہیں جاؤں گا۔'' معاملہ بڑھا اور شیطان نے کہا :'' میں تجھے وہ درخت نہیں کاٹنے دوں گا ۔''

    چنانچہ دونو ں میں کُشتی ہو گئی اور اس مسلمان نے شیطان کو پچھاڑ دیا،پھر شیطان نے اسے لالچ دیتے ہو ئے کہا : ''اگر تُو اس درخت کو کاٹ بھی دے گا تو تجھے اس سے کیا فائدہ حاصل ہوگا۔میرا مشورہ ہے کہ تو اس درخت کو نہ کاٹ، اگر تُوایسا کریگا تو روزانہ تجھے اپنے تکیے کے نیچے سے دو دینار ملا کریں گے ۔''وہ شخص کہنے لگا:'' کون میرے لئے دو دینار رکھا کریگا ۔''شیطان نے کہا :'' میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں کہ روزانہ تجھے اپنے تکیے کے نیچے سے دو دینارملاکریں گے ۔''وہ شخص شیطان کی اِن لالچ بھری باتوں میں آگیااور دودینار کی لالچ میں اس نے درخت کاٹنے کاارادہ ترک کیا اور واپس گھر لوٹ آیا۔ پھر جب صبح
Flag Counter