| عُیونُ الحِکایات (حصہ اول) |
وہاں پڑا رہا۔
کچھ عرصہ بعد حضرت سیدناعیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام دوبارہ وہیں سے گزرے تو دیکھا کہ سونا وہیں موجود ہے اور وہاں تین لاشیں پڑی ہیں۔ آپ علیہ السلام نے یہ دیکھ کر لوگو ں سے فرمایا:'' یہ دنیا ایک دھوکا ہے لہٰذا اس سے بچو (یعنی جو اس کے لالچ میں پھنسا وہ ہلاک ہوگیا)
(اے ہمارے پاک پرورد گار عزوجل !ہمیں دنیاکے لالچ سے بچا کر اپنے پیارے حبیب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا سچّاعشق عطا فرما اور مال کے وبال سے بچا)آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم
حکایت نمبر84: راہِ علم کی مشقتوں میں صبرپرانعام
حضرت سیدنا ابو الحسن فقیہہ صفار علیہ رحمۃاللہ الغفّار فرماتے ہیں:''ہم مشہورمحدث حضرت سیدنا حسن بن سفیان النسوی علیہ رحمۃاللہ القوی کی خدمت بابرکت میں رہا کرتے تھے، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی علمیت کا ڈنکا ملک بھر میں بج رہاتھا، لوگ تحصیلِ علم کے لئے دور دراز سے سفر کرکے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضرہوتے اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے احادیث سن کرلکھ لیتے، الغرض آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے دور کے مشہورومعروف محدث اورفقیہہ تھے اور آپ کے کاشانہ اطہر پر طالب علموں کا ہجوم لگا رہتا اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ان علم دین کے متوالوں کو احادیث مبارکہ لکھو اتے اورانہیں فقہ کے مسائل سے آگا ہ کرتے ۔
ایک مرتبہ جب ہم آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی مجلس ِعلم میں حاضر ہوئے تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حدیث لکھوانے کی بجائے لوگو ں سے فرمایا:'' پہلے آج تم لوگ توجہ سے میری بات سنو اس کے بعد تمہیں حدیث لکھواؤں گا، تمام لوگ بڑی توجہ سے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بات سننے لگے ، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ''اے دین کا علم سیکھنے کے لئے دور دراز سے سفر کی صعوبتیں اور تکالیف جھیل کر آنے والو! بے شک میں جانتا ہوں کہ تم خوب ناز ونعم میں پلے ہو اور اہلِ فضیلت میں سے ہو، تم نے دین کی خاطر؎نہ مجھ کوآزما دنیا کا مال وزر عطا کرکے عطا کر اپنا غم اور چشمِ گریا ں یا رسول اللہ ا!