Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
182 - 410
اپنے اہل وعیال او ر وطنوں کو چھوڑا(یہ یقینا تمہاری قربانی ہے) لیکن خبر دار! تمہارے دل میں ہر گز یہ خیال نہ آئے کہ تم نے جو سفر کی مشقتیں اور تکالیف بر داشت کی ہیں اور حصولِ علم دین کے لئے اپنے اہل وعیال سے دوری اختیار کی ہے اور بہت سی خواہشوں کوقربان کیا مگر ان تمام مشکلات پر صبر کر کے تم نے علم دین سیکھنے کا حق ادا نہیں کیاکیونکہ تمہاری تکلیفیں دین کی راہ میں بہت کم ہیں۔ آؤ میں تمہیں اپنے زمانہ طالب علمی کی کچھ تکالیف سناتا ہوں تا کہ تمہیں بھی تکالیف پر صبر کرنے کی ہمت ورغبت ملے۔

    سنو! جب مجھے علم دین سیکھنے کا شوق ہوا تو اس وقت میں عالمِ شباب میں تھا، میری شدید خواہش تھی کہ میں حدیث وفقہ کا علم حاصل کر وں۔ چنانچہ ہم چند دوست حصول ِعلم دین کے لئے مصر کی طرف روانہ ہوئے اورہم نے ایسے اساتذہ اور محدثین کی تلاش شرو ع کردی جو اپنے دور کے سب سے زیادہ ماہر حدیث اور سب سے بڑے فقیہہ اور حافظ الحدیث ہوں، بڑی تلاش کے بعد ہم اس زمانے کے سب سے بڑے محدث کے پاس پہنچے وہ ہمیں روزانہ بہت کم تعداد میں ا حادیث اِملاء کرواتے (یعنی لکھواتے) وقت گزر تا رہا یہاں تک کہ مدت طویل ہوگئی اور ہمارا ساتھ لایا ہوا نان ونفقہ بھی ختم ہونے لگا۔ جب سب کھانا وغیرہ ختم ہوگیا تو ہم نے اپنے زائد کپڑے اور چادریں وغیرہ فروخت کیں اور کچھ کھانا وغیرہ خریدا پھر جب وہ بھی ختم ہوگیا تو فاقوں کی نوبت آگئی۔ ہم سب دوست ایک مسجد میں رہا کرتے تھے، کوئی ہماری مشقتو ں اور تکالیف سے واقف نہ تھا اور نہ ہی ہم نے کبھی اپنی تنگدستی اور غربت کی کسی سے شکایت کی، ہم صبر وشکر سے علمِ دین حاصل کرتے رہے، اب ہمارے پاس کھانے کو کچھ بھی نہ رہا بالآخر ہم نے تین دن اور تین راتیں بھوک کی حالت میں گزار دیں۔ ہماری کمزوری اتنی بڑھ گئی کہ ہم حرکت بھی نہ کرسکتے تھے۔ چوتھے دن بھوک کی وجہ سے ہماری حالت بہت خراب تھی ،ہم نے سوچاکہ اب ہم ایسی حالت کو پہنچ چکے ہیں کہ ہمیں سوال کرنا جائز ہے کیوں نہ ہم لوگوں سے اپنی حاجت بیان کریں تا کہ ہمیں کچھ کھانے کو مل جائے لیکن ہماری خودداری اور عزت نفس نے ہمیں اس پرآمادہ نہ ہونے دیاکہ ہم لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں اور اپنی پریشانی ان پر ظاہر کریں، ہم میں سے ہر شخص اس بات سے انکار کرنے لگا کہ وہ لوگو ں کے سامنے ہاتھ پھیلائے لیکن حالت ایسی تھی کہ ہم سب قریب المرگ تھے اور مجبور ہو گئے تھے۔ چنانچہ یہ طے پایا کہ ہم قرعہ ڈالتے ہیں جس کانام آگیا وہی سب کے لئے لوگو ں سے کھانا طلب کریگا تا کہ ہم اپنی بھوک ختم کرسکیں جب سب کے نام لکھ کر قرعہ ڈالا گیا توقرعہ میرے نام نکلا، چنانچہ میں بادِلِ نخواستہ لوگوں سے اپنی حاجت بیان کرنے کے لئے تیار ہوگیا لیکن میری غیرت اس بات کی اجازت نہ دے رہی تھی پس میں عزت نفس کی وجہ سے لوگوں کے پاس مانگنے کے لئے نہ جاسکا اور میں نے مسجد کے ایک کونے میں جا کر نماز پڑھنا شروع کردی اوربہت طویل دو رکعت نماز پڑھی پھر اللہ عزوجل سے اس کے پاکیزہ اور بابرکت ناموں کے وسیلے سے دعا کی کہ وہ ہم سے اس پریشانی اور تکلیف کو دور کردے اور ہمیں