Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
180 - 410
آپ علیہ السلام نے اسے ذبح کیا، اسے بھونااور دونوں نے اس کا گوشت کھایا، پھر آپ علیہ السلام نے اس کی ہڈیاں ایک جگہ جمع کیں اور فرمایا:''اللہ عزوجل کے حکم سے کھڑا ہوجا، یکایک وہ ہڈیاں دو بارہ ہرنی کا بچہ بن گئیں اور وہ بچہ اپنی ماں کی طرف روانہ ہوگیا، آپ علیہ السلام نے اس شخص سے فرمایا:''اے شخص! تجھے اس ذات کی قسم! جس نے تجھے میرے ہاتھوں یہ معجزہ دکھایا ،تو سچ سچ بتا کہ وہ روٹی کس نے لی تھی ؟ وہ شخص بولا: ''مجھے معلوم نہیں کہ روٹی کس نے لی تھی؟'' آپ علیہ السلام اس شخص کو لے کردو بارہ سفر پر روانہ ہوئے، راستے میں ایک دریا آیا آپ علیہ السلام نے اس شخص کا ہاتھ پکڑا اور اسے لے کر پانی پر چلتے ہوئے دریا پار کرلیا ،پھر آپ علیہ السلام نے اس سے فرمایا:'' تجھے اس پاک پروردگار عزوجل کی قسم !جس نے تجھے میرے ہاتھوں یہ معجزہ دکھایا سچ سچ بتاکہ تیسری روٹی کس نے لی تھی ؟'' اس نے پھر وہی جواب دیا کہ مجھے معلوم نہیں۔ آپ علیہ السلام اس شخص کو لے کر آگے بڑھے، راستے میں ایک ویران صحراء آگیا۔ آپ علیہ السلام نے اس سے فرمایا:''بیٹھ جاؤ، پھر آپ علیہ السلام نے کچھ ریت جمع کی اور فرمایا:'' اے ریت ! اللہ عزوجل کے حکم سے سونا بن جا تووہ ریت فوراً سونے میں تبدیل ہوگئی ۔آپ علیہ السلا م نے اس کے تین حصے کئے اور فرمایا:'' ایک حصہ میرا دوسرا تیرا اور تیسرا حصہ اس کے لئے ہے جس نے وہ روٹی لی تھی، یہ سن کر وہ شخص بولا: ''وہ روٹی میں نے ہی چھپائی تھی۔''

    حضرت سیدنا عیسیٰ علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس شخص سے فرمایا: ''یہ تینوں حصے تم ہی لے لو۔'' اتنا کہنے کے بعدآپ علیہ السلام اس شخص کو وہیں چھوڑ کر آگے روانہ ہوگئے۔ وہ اتنا زیادہ سونا ملنے پر بہت خوش ہوا، او راس نے وہ سارا سونا اٹھالیا اتنے میں وہاں دو اور شخص پہنچے جب انہوں نے دیکھا کہ اس ویرانے میں اکیلا شخص ہے اور اس کے پا س بہت سا سونا ہے تو انہوں نے ارادہ کیا کہ ہم اس شخص کو قتل کردیتے ہیں او ر اس سے سونا چھین لیتے ہیں جب وہ اسے قتل کرنے کے لئے آگے بڑھے تو اس شخص نے کہا :''تم مجھے قتل نہ کرو بلکہ ہم اس سونے کو باہم تقسیم کرلیتے ہیں ، اس پر وہ دونوں شخص قتل سے باز رہے اور اس بات پر راضی ہوگئے کہ ہم یہ سونا برابر برابر تقسیم کرلیتے ہیں ، پھر اس شخص نے کہا :'' ایسا کرتے ہیں کہ ہم میں سے ایک شخص جاکر قریبی بازار سے کھانا خریدلائے کھانا کھانے کے بعد ہم یہ سونا باہم تقسیم کرلیں گے ۔چنانچہ ان میں سے ایک شخص بازار گیاجب اس نے کھانا خریداتو اس کے دل میں یہ شیطانی خیال آیا کہ میں اس کھانے میں زہر ملادیتا ہوں جیسے ہی وہ دونوں اسے کھائیں گے تو مرجائیں گے اور سارا سونا میں لے لوں گا، چنانچہ اس نے کھانے میں زہر ملا دیا اور اپنے ساتھیوں کی طرف چل دیا، وہاں ان دونوں کی نیّتوں میں بھی سونا دیکھ کر فتور آگیا اور انہوں نے باہم مشورہ کیا کہ جیسے ہی ہمارا تیسرا ساتھی کھانالے کر آئے گا ہم اسے قتل کر دیں گے اورسونا ہم دونوں آپس میں بانٹ لیں گے ، چنانچہ جیسے ہی وہ کھانا لے کر ان کے پاس پہنچا ان دونوں نے اسے قتل کردیا اور بڑے مزے سے زہر ملا کھانا کھانے لگے ،کچھ ہی دیر بعد زہر نے اپنا اثر دکھایا اور وہ دونوں بھی وہیں ڈھیر ہوگئے اور سونا ویسے ہی