| عُیونُ الحِکایات (حصہ اول) |
سیدنا مہد ی علیہ رحمۃاللہ الہادی سے ہوئی تو میں نے انہیں اس اعرابی اور لونڈی والا واقعہ بتایا۔ تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمانے لگے: ''اس اعرابی نے اسی طر ح اپنے سو غلام اور لونڈیا ں آزاد کی ہیں ۔اور وہ جب بھی کوئی لونڈی یا غلام آزاد کرتا ہے تو اسی طرح ایک مضمون لکھواکر ا پنے پاس رکھ لیتا ہے اور لونڈی یا غلام کو آزاد کردیتا ہے ۔ (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)
حکایت نمبر72: شرابی کی ہدایت کاسبب
حضرت سیدنا یوسف بن حسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''ایک مرتبہ میں حضرت سیدنا ذوالنون مصری علیہ رحمۃ اللہ القوی کے ساتھ ایک تالاب کے کنارے موجود تھا۔ اچانک ہماری نظر ایک بہت بڑے بچھو پر پڑی جو تالاب کے کنارے بیٹھا ہوا تھا، اتنی دیر میں ایک بڑاسامینڈک تالاب سے نکلا اور وہ اس بچھو کے قریب کنارے پر آگیا۔ بچھو اس مینڈ ک پر سوار ہوا اور مینڈک اسے لے کر تیرتا ہوا تالاب کے دو سرے کنارے کی طر ف بڑھنے لگا ۔یہ منظر دیکھ کر حضرت سیدنا ذوالنون مصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مجھ سے فرمایا: ''چلو! ہم بھی تالاب کے دوسرے کنارے چلتے ہیں اس طرف ضرورکوئی عجیب وغریب واقعہ پیش آنے والا ہے ۔
چنانچہ ہم بھی تالاب کے دوسرے کنارے پہنچے ،کنارے پر پہنچ کر مینڈک نے بچھو کو اتا ر دیا ،بچھو تیزی سے ایک سمت چلنے لگا ۔ہم بھی اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگے ،کچھ دور جاکر ہم نے ایک عجیب وغریب خوفناک منظر دیکھا ۔ ایک نوجوان نشے کی حالت میں بےہوش پڑا ہے، اچانک ایک اژدھا ایک جانب سے اس نوجوان کی جانب بڑھا اور اس کے سینے پر چڑھ گیا۔ جیسے ہی اس نے نوجوان کو ڈسنا چاہا بچھو نے اس پر حملہ کیا او راس کو ایسا زہر یلا ڈنک ماراکہ وہ اژدہاتڑ پنے لگا اور نوجوان کے جسم سے دور ہٹ گیا، پھر تڑپ ترپ کر مرگیا ، جب سانپ مرگیا تو بچھو واپس تالاب کی طرف گیا ۔وہا ں مینڈ ک پہلے ہی موجود تھا۔ اس پر سوار ہو کر بچھو دو بارہ دوسرے کنارے کی طر ف چلاگیا۔
؎فانوس بن کر جس کی حفاظت ہوا کرے
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے
پھرہم اس نوجوان کے پاس آئے، وہ ابھی تک نشے کے حالت میں بے ہوش پڑا تھا۔ حضرت سیدناذوالنون مصری علیہ