حضرت سیدنا شبیب بن شیبہ الخطیب علیہ رحمۃاللہ اللطیف فرماتے ہیں:'' ایک مرتبہ ہم مکہ مکرمہ (زَادَھَااللہُ تَعَالٰی شَرْفاً وَتَعْظِیْماً)کے صحرائی راستوں میں سفر پر تھے۔ ایک جگہ ہم نے قیام کیا، دستر خوان لگایا اور کھانا کھانے لگے۔ گرمی کی شدت سے زمین تانبے کی طرح دہک رہی تھی، گرم گرم ہوائیں جسم کو جُھلسارہی تھیں ۔ ہم نے ابھی کھانا شروع ہی کیا تھا کہ ایک اعرا بی ا پنی حبشی لونڈی کے ساتھ ہمارے پاس آیا۔
ہم نے اس سے کہا :'' آیئے! ہمارے ساتھ کھانا کھائیے۔ ''تو وہ کہنے لگا:''میں رو زہ سے ہوں۔'' ہم اُس کے اِس جواب سے بہت متعجب ہوئے ( اورایسی شدید گرمی میں نفلی روزہ رکھنا واقعی تعجب خیز بات تھی )پھر وہ اعرابی ہم سے کہنے لگا : ''کیا تم میں کوئی قرآن پاک کا قاری اور کاتب ہے کہ میں اس سے کوئی چیز لکھوانا چاہتا ہوں کیا تم میں سے کوئی میری اس حاجت کو پورا کرسکتا ہے؟''
جب ہم کھانے وغیرہ سے فراغت پاچکے، تو ہم نے اس سے پوچھا:''اب بتائیے آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں؟( حتی الامکان ہم آپ کی مدد کریں گے ) وہ اعرابی کہنے لگا:''اے میرے بھائی !بے شک یہ دنیا پہلے سے موجود تھی لیکن میں اس میں نہ تھا (پھر میں پیدا ہوا) اب یہ دنیا ایک مقررہ مدت تک باقی رہے گی لیکن میں اسے عنقریب چھوڑ جاؤں گا۔''
؎ دِلا غافل نہ ہو یکدم یہ دنیا چھوڑ جانا ہے
بغیچے چھوڑ کر خالی زمین اندر سمانا ہے
اے میرے بھائی!میں چاہتاہوں کہ اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر ''یوم عقبہ'' کے لئے اپنی اس لونڈی کو آزاد کردوں، کیا تم جانتے ہو کہ ''یوم عقبہ'' کیا ہے؟'' قرآن کریم میں اللہ عزوجل کا ارشادِ پاک ہے: