Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
165 - 410
رحمۃ اللہ القوی نے اس شخص کو ہلایا تو اس نے آنکھیں کھول دیں ، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:'' اے نوجوان! دیکھ تیرے پاک پروردگار عزوجل نے کس طر ح تیری جان بچائی ہے،یہ جو مردہ سانپ تم دیکھ رہے ہو، یہ تجھے ہلاک کرنے آیا تھا لیکن اللہ عزوجل نے تیری حفاظت اس طر ح کی کہ تالاب کے دو سرے کنارے سے ایک بچھو نے آکر اس اژدھے کو مارڈالا اور اس طرح تواژدھے کے حملے سے محفوظ رہا۔ پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس نوجوان کو سارا واقعہ بتایا اور یہ اشعار پڑھنے لگے:
یَا غَافِلًا وَ الْجَلِیلُ يحْرُسُہ، مِنْ                   کُلِّ سُوْ ءٍ یَدُ وْرُ فِی ا لظُّلَمِ

کَیْفَ تَنَامُ الْعُیُوْنُ عَنْ مَلِکٍ                     یَاْ تِیْکَ مِنْہ، فَوَ ا ئِدُ ا لنِّعَمِ
    ترجمہ: اے غافل! (اُٹھ) رب جلیل (اپنے بندے کی)ہر اس برائی سے حفاظت کرتا ہے جو اندھیروں میں گھومتی ہے، پھر تیری آنکھیں اس مالکِ حقیقی سے غافل ہو کر کیوں سوگئیں جس کی طر ف سے تجھے نعمتو ں کے فائدے پہنچتے ہیں ۔

    نوجوان نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زبان بااثر سے جب یہ حکمت بھرے اشعار سنے، تو وہ خواب غفلت سے جاگ گیا، اور اپنے رب عزوجل کی بارگاہ میں تائب ہوگیا ،اور کہنے لگا:'' اے میرے پاک پروردگار عزوجل !جب تو اپنے نافرمان بندو ں کے ساتھ ایسا رحمت بھرا برتاؤکرتاہے، تواپنے اطاعت گزار بندوں پرتیری رحمت کی بر سات کس قدر ہوتی ہوگی ۔

    اس کے بعد وہ نوجوان ایک جانب جانے لگا تو میں نے اس سے پوچھا:''اے نوجوان! کہا ں کا ارادہ ہے ؟''اس نے کہا: ''اب میں جنگلوں میں اپنے رب عزوجل کی عبادت کرو ں گا، اور خدا عزوجلکی قسم! میں آئندہ کبھی بھی دنیا کی رنگینیوں کی طر ف التفات نہ کرو ں گا اور شہر کی طر ف کبھی بھی قدم نہ بڑھاؤں گا۔''اتنا کہنے کے بعد وہ نوجوان جنگل کی طر ف روانہ ہوگیا۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)
حکایت نمبر 73:                 ویران پہاڑیاں
     حضرت سیدنا محمد بن ابو عبداللہ خزاعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:'' شام کے رہنے والے ایک شخص نے مجھے بتایاکہ ''ایک مرتبہ میں ویران پہاڑیوں میں پہنچا ، وہ ایسی جگہ تھی کہ لوگ ایسی جگہوں کی طرف کم ہی آتے ہیں، وہاں میں نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا جس کی بھنویں بھی سفید ہوچکی تھیں وہ گردن جھکائے بیٹھا تھا اور اس طرح صدائیں بلند کر رہا تھا'' اگر تو نے
Flag Counter