بڑا حیران ہوا اور چھپ کر بیٹھا رہا ۔
اس نوجوان نے کھانے پینے کے بعد اللہ عزوجل کا شکر ادا کیا اور دو بارہ نماز میں مشغول ہوگیا اور فجر تک نماز پڑھتا رہا، فجر کے وقت مجھ سے رہانہ گیا پس میں اس کے سامنے ظاہر ہوگیا۔ اس کی اِقتداء میں نماز فجر ادا کی ،نماز کے بعد وہ نوجوان مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا:'' اے اللہ عزوجل کے بندے !تُو کون ہے اور میری اجازت کے بغیر میرے گھر میں کیسے داخل ہوگیا؟'' میں نے کہا :''اے مردِ صالح! اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے میں کسی برُی نیت سے یہاں نہیں آیا بلکہ میں تو بھلائی ہی کے لئے یہاں آیا ہوں، مجھے چند باتوں سے بڑی حیرانی ہوئی ہے ، میں نے آپ کے آنے سے پہلے گھڑے کو دیکھا تھا تو اس میں پانی بالکل نہ تھا لیکن آپ نے اسی میں سے پانی پیا ، اسی طر ح جس بر تن سے آپ نے کھانا کھایا وہ تو باکل خالی تھا پھر آپ نے کیسے کھانا کھایا؟میرے لئے یہ باتیں بڑی حیران کن ہیں ۔'' یہ سن کر وہ نوجوان کہنے لگا : ''تم نے بالکل ٹھیک کہا کہ وہ بر تن اور گھڑا خالی تھا لیکن میں نے جو کھانا اس برتن سے کھایا وہ ایسا کھانا نہیں جسے لوگ طلب کرتے ہیں ،اسی طرح میں نے جو پانی پیا وہ ایسا نہیں جیسا لوگ پیتے ہیں ۔''
یہ سن کرمیں نے اس نوجوان سے کہا :'' اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو تازہ مچھلی لاکر دو ں''؟ نوجوان کہنے لگا:'' کیاتم مجھے (دنیوی)غذ ا کی دعوت دے رہے ہو؟'' میں نے کہا:'' اے نوجوان! اس اُمت کو یہ حکم نہیں دیا گیاجیسے آپ کر رہے ہیں بلکہ ہمیں تو یہ حکم دیا گیا کہ جماعت کے ساتھ رہیں ،مساجد میں حاضر ہوں ،باجماعت نماز کی فضیلت حاصل کریں، مریضو ں کی عیادت کریں، مسلمانوں کے جنازوں میں حاضر ہوں اور مخلوقِ خدا عزوجل کی خیر خواہی کریں، لیکن آپ نے یہ سب کام چھوڑکر گوشہ نشینی اختیار کرلی ہے اور ان سعادتوں سے محروم ہوگئے ہیں۔''یہ سن کر وہ نوجوان کہنے لگا :'' آپ نے جوباتیں ذکر کیں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عزوجل مجھے وہ تمام سعادتیں حاصل ہیں ، یہاں قریب ہی ایک بستی ہے جہاں جاکرمیں عوام النا س کی خیر خواہی بھی کرتا ہوں اورآپ کے ذکر کردہ باقی اُمور بھی سرانجام دیتا ہوں۔'' اتنا کہنے کے بعد اس نوجوان نے ایک پرچہ پر کچھ لکھا اور پھر زمین پر لیٹ گیا میں سمجھا کہ شاید اس کا اِنتقال ہوگیا ،قریب جا کر دیکھا تو وہ واقعی خالقِ حقیقی عزوجل سے جا ملے تھے ۔جب ان کی قبر کھودی گئی تواس سے مُشک کی خوشبوآرہی تھی ۔
(اللہ ل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)