Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
140 - 410
حکایت نمبر57:                 پُر اَسرار جزیرہ
    حضرت سیدنا ابوہَیثَم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم حضرت سیدنا عبداللہ بن غالب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے چند رُفقاء کے ساتھ بحری سفر پر روانہ ہوا،ہماری کشتی سمندر کے سینہ کو چیرتی ہوئی جانبِ منزل چلی جا رہی تھی۔ اچانک ہماری کشتی ایک جزیرہ کے قریب جا پہنچی، ہم نے وہاں کشتی روکی تو وہ ایک ویران اور بڑی ہولناک جگہ تھی وہاں ہمیں کوئی شخص نظر نہ آیا ۔ میں نے ارادہ کیا کہ میں اس جگہ کو ضرور دیکھوں گا شایدیہاں کوئی عجیب وغریب شےئ نظر آئے۔چنانچہ میں کشتی سے اُتر ا اور اکیلا ہی اس پرُ اَسرارجزیرے کی طرف چل دیا، وہاں کامنظر بڑاہولناک تھا، مجھے نہ تو وہاں کوئی انسان نظر آیا نہ ہی کوئی گھر و غیرہ۔ پھرکچھ دور ایک گھر نظر آیا ، میں نے جان لیا کہ اس میں ضرور کوئی نہ کوئی رہتا ہوگا اور یہاں کوئی عجیب وغریب بات ضرو ر ہوگی کیونکہ اس ویرانے میں کسی گھر کا موجود ہونا ایک عجیب سی بات تھی۔

    میں نے تہیہ کر لیا کہ اس گھر کے راز کو ضرور جانوں گا ، چنانچہ میں وہاں سے واپس اپنے دو ستوں کے پاس آیا او ران سے کہا:'' مجھے تم سے ایک کام ہے، اگر تم اسے پورا کردو تو احسان ہوگا ۔''انہوں نے پوچھا :'' بتائیے کیا کام ہے ؟'' میں نے جواب دیا: ''آج رات ہم اسی جزیرہ میں قیام کریں گے اور صبح سفر پر روانہ ہوں گے۔'' میرے رفقاء میری اس خواہش پر وہیں رات بسر کرنے کے لئے تیار ہوگئے ۔ میں پھریہ سوچتے ہوئے اسی گھر کی طر ف چل دیا کہ جب رات ہوگی تو اس گھر میں رہنے والے ضرور یہاں آئیں گے اورمیں ان سے ملاقات کرلو ں گا ۔چنانچہ میں وہیں ٹھہر گیا پھر یہ سوچ کر میں اس گھر میں داخل ہوگیا کہ آخر دیکھوں تو سہی کہ اس میں کیا ہے ۔ میں نے اس چھوٹے سے گھر کو بالکل خالی پایا، اس میں صرف ایک گھڑا تھا اور وہ بھی بالکل خالی اور ایک بڑا سا تھال تھا جس میں کچھ نہ تھا ، ان کے علاوہ اس گھر میں کوئی شے نہیں تھی۔ میں ایک جگہ چھپ کر بیٹھ گیا اور رات ہونے کا انتظار کرنے لگا، جب سورج غروب ہوگیا اور رات نے اپنے پَر پھیلادیئے تو مجھے اچانک ایک آہٹ سی محسوس ہوئی اور پہاڑ کی جانب سے ہلکی ہلکی آواز آنے لگی، میں محتا ط ہو کر بیٹھ گیا اور غور سے اس آواز کو سننے لگا۔ یہ کسی نوجوان کی آوازتھی جو اَللہُ اَکْبَرُ، سُبْحَانَ اللہِ ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عزّوجل کی صدائیں لگاتا ہوا اسی گھر کی طرف آرہاتھا۔کچھ دیر بعد ایک پُر کشش نورانی شکل وصورت والانوجوان اس گھر میں داخل ہوا ، اس نے آتے ہی نماز پڑھنا شرو ع کردی اور کافی دیر نماز میں مشغول رہا،نماز سے فراغت کے بعد وہ اس بر تن کی طرف بڑھا جو بالکل خالی تھا ۔ نوجوان نے اس بر تن سے کھانا شرو ع کردیا حالانکہ میں دیکھ چکا تھا کہ وہ بر تن باکل خالی تھا لیکن وہ نوجوان اسی برتن میں سے نہ جانے کیا کھارہا تھا؟ کچھ دیر بعد وہ اٹھا اور گھڑے کی طرف آیا اور ایسا لگا گویا کہ اس میں سے پانی پی رہا ہو حالانکہ میں نے دیکھا تھا کہ اس گھڑے میں پانی کا ایک قطرہ بھی نہ تھا ، میں
Flag Counter