ترجمہ:اے ودود! اے عرش مجید کے مالک! اے وہ ذات جو ہر اِرادے کو پورا کرنے والی ہے! میں تیری عزت کا واسطہ دیتا ہوں ایسی عزت جس کی کوئی اِنتہاء نہیں اور اے ایسی با دشاہت کے مالک! جس پر کوئی دباؤ نہیں ڈال سکتا، میں تجھے تیرے اس نور کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں جس نے تیرے عرش کے ارکان کو منور کیا ہوا ہے ،اے میرے پروردگار عزوجل!مجھے اس ڈاکو کے شر سے محفو ظ رکھ ، اے مدد کرنے والے !میری مدد فرما ، اے مدد کرنے والے! میری مدد فرما، اے مدد کرنے والے !میری مدد فرما ۔''
اس صحابی نے بڑی آہ وزاری کے ساتھ ان کلمات کے ذریعے تین مرتبہ بارگاہِ خداوندی عزوجل میں دعا کی ، ابھی وہ دعا سے فارغ بھی نہ ہو نے پائے تھے کہ ایک جانب سے ایک شَہْسَوَارہاتھ میں نیزہ لئے نمودار ہوا اور اس ڈاکو کی طرف بڑھا، جب ڈاکو نے اسے دیکھا تو اس پر حملہ کرنا چاہا لیکن سوار نے نیز ے کے ایک ہی وار سے ڈاکو کا کام تمام کردیا ۔ پھر وہ سوار اُس صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور کہا: ''کھڑے ہوجائیے۔''
یہ سن کر وہ صحابی رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے اور اس سوار سے کہنے لگے:'' اے عظیم شخص! میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں! آج اس مصیبت کے دن تم نے میری مدد کی ہے ،تم کون ہو؟ '' سوارنے کہا: ''میں اللہ عزوجل کے فر شتوں میں سے ایک فرشتہ ہوں اور چوتھے آسمان سے ا ۤ پ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مدد کے لئے آیاہوں، جب آپ(رضی اللہ تعالیٰ عنہ)نے (ان پاکیزہ کلمات کے ساتھ) پہلی بار دعا کی توآسمان کے دروازوں کی آواز ہمیں سنائی دی ، پھر جب دوسری مرتبہ دعا کی تو ہم نے آسمان میں ایک چیخ وپکار سنی، پھر جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تیسری مرتبہ یہی دعا کی تو ہمیں یہ آواز سنائی دی:'' یہ ایک پریشان حال کی دعا ہے ۔لہٰذا میں نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں عرض کی: ''یا ربَّ العالَمین عزوجل !مجھے اس مظلوم کی مدد کر نے اور اس ڈاکو کو قتل کرنے کی اجازت دے۔'' چنانچہ میں اللہ عزوجل کے حکم سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مدد کرنے آیا ہوں۔''
(اللہ ل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)
ٍ حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :'' جو شخص وضو کر ے اور چار رکعت نماز پڑھے پھر ان مذکورہ بالا کلمات کے ساتھ اللہ ربُّ العزَّت عزوجل سے دعا کرے تو اس کی دعا قبول کی جاتی ہے،چاہے دعا کرنے والا حالتِ کرب میں دعا کرے یا اس کے علاوہ (یعنی جب بھی دعا کرے اس کی دعا قبول کی جاتی ہے)۔''