کا علاج چاہتے ہو تو اپنی نظر کو عالم ملکوت کی طرف پھیر و ،اپنے کانوں کو اسی عالم کی طر ف مشغول کر لو اور اپنے ایمان کی حقیقت کو جنت ما وٰی کی طرف منتقل کرلو۔ اگر ایسا کرو گے تو ربِّ کائنات عزوجل نے اپنے مقرب بندوں کے لئے جو نعمتیں اور آسائشیں اس میں رکھی ہیں وہ تم پر منکشف ہوجائیں گی۔اسی طر ح پھر اپنی تمام تو جہ جہنم کی طر ف کرو اور اس میں غور وفکر کرو اور حقیقی نظر سے اس کو دیکھو تو تمہیں وہ تمام عذاب ومصائب نظر آجائیں گے جو اللہ جلّ جلالہ کے دشمنوں اور نافرمانوں کے لئے تیار کئے گئے ہیں۔ اگر اس طرح کر و گے تو تمہیں دونوں چیزوں میں فرق معلوم ہوجائے گا اور یہ بات بالکل واضح ہوجائے گی کہ نیکوں او ر بدوں کی موت برابر نہیں ۔''
حضرت سیدنا ابو عامر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ،میری یہ بات سن کر وہ بزرگ رونے لگے اور سرد آہیں بھرنے لگے اور ایک چیخ مار کرکہنے لگے:'' اے ابو عامر(رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)! اللہ عز وجل کی قسم! تمہاری دوا نے فوراََ میرے زخمی دل پر اثر کیا ہے ،میں اُمید رکھتاہوں کہ تمہارے پاس مجھے ضرور شفا ء نصیب ہوجائے گی، رحیم وکریم پروردگارعزوجل آپ پر رحم فرمائے۔ مجھے مزید نصیحت فرمائیے۔''
حضرت سیدنا ابو عامر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ،پھر میں نے اس بزرگ سے کہا:''اے مرد صالح !اللہ عزوجل تجھے اس وقت بھی دیکھتا ہے جب تو تنہائی میں ہوتا ہے اور جب تو جلوت میں ہوتا ہے توبھی وہ تجھے دیکھتا ہے۔'' تواس بزرگ نے پہلے کی طر ح پھر چیخ ماری پھر فرمایا:''وہ کون سی ہستی ہے جو میرے گناہوں کو معاف کرے،جو میرے غم و حزن کو دورکرے اورمیری خطاؤں کومعاف کرے؟اے میرے رحیم وکریم پروردگار عزو جل !تیری ہی ذات ایسی ہے جو میری مدد گار ہے ، اور میں تجھی پر بھروسہ کرتا ہوں اورتیری ہی طر ف رجوع کرتا ہوں۔'' اتناکہنے کے بعد وہ بزرگ زمین پر گرے اور ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔
حضرت سیدنا ابو عامر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''کچھ دیر بعد ایک لڑکی وہاں آئی جس نے اُون کا کرتہ پہنا ہوا تھا اور اُون ہی کی چادر اوڑھی ہوئی تھی اور اس کے ماتھے پر سجدوں کی کثرت کی وجہ سے نورانی نشانات بن چکے تھے ،روزوں کی کثرت کی وجہ سے اس کارنگ زرد ہوگیا تھااور طویل قیام کی وجہ سے پاؤں سوجھے ہوئے تھے۔ اس نے مجھ سے کہا :''اے عارفین کے دلوں کو تقویت دینے والے اور اے غم زدوں کی مصیبتو ں کو حل کرنے والے! تو نے بہت اچھا کیا، ان شا ء اللہ عزوجلتمہارا یہ عمل رائیگاں نہیں جائے گا ، اے ابو عامر! یہ بزرگ میرے والد تھے او رتقریباً بیس سال سے کوڑھ کی بیماری انہیں لاحق تھی، یہ ہر وقت نماز ہی میں مشغول رہتے یہاں تک کہ یہ اپاہج ہوگئے،رونے کی کثرت کی وجہ سے ان کی آنکھیں ضائع ہو گئیں اور یہ اللہ رب