العزت سے امید رکھتے تھے کہ آپ سے ملاقات ضرور ہوگی ۔''اور یہ فرمایا کرتے تھے:'' میں ایک مرتبہ حضرت سیدنا ابو عامر واعظ علیہ رحمۃ اللہ الواحدکی محفل میں حاضر ہوا تھا۔ ان کی پُراثر باتوں نے میرے مردہ دل کو زندہ کردیا ، اور مجھے خوابِ غفلت سے بیدار کر دیا، اگر دو بارہ کبھی میں ان کی محفل میں چلا گیا یا ان کی باتیں سن لیں تو میں ان کی باتیں سن کر ہلاک ہوجاؤں گا ،پھر وہ لڑکی کہنے لگی: '' اے ابو عامر(رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)! اللہ عزوجل تمہیں جزائے خیر عطا فرمائے کہ تم نے میرے والد کو وعظ ونصیحت کی اور ان کو سکون وآرام مہیا کیا، اللہ عزوجل تمہیں اس کا اچھا صلہ عطا فرمائے ۔''
پھر وہ لڑکی اپنے باپ کے پاس آئی اور اس کی آنکھوں کو بوسہ دینے لگی او ر روتے ہوئے کہنے لگی :''اے وہ عظیم شخص جس نے اللہ عز وجل کے خوف سے رورو کر اپنی آنکھیں گنوا دیں ! اے میرے کریم باپ !تجھے تیرے رب عز وجل کے عذاب کی وعیدوں نے ہلاک کردیا ، تم ہمیشہ اپنے رب عزوجل کے خوف سے گریہ وزاری کرتے رہے اور دعا ء و استغفار میں مشغول رہے۔''
میں نے اس سے پوچھا:''اے نیک بندی !تو اتنا کیوں رو رہی ہے ؟ ''اور اتنی غمزدہ کیوں ہو رہی ہے، تمہارے والدِگرامی تو اب دارالجزاء میں جاچکے ہيں اور وہ اپنے ہر عمل کا بدلہ دیکھ چکے ہوں گے اوران کے اعمال ان کے سامنے پیش کردیئے جائیں گے اگر ان کے اعمال اچھے تھے تو ان کے لئے خوشخبری ہے اور اگر اعمال نامقبول تھے تو یہ افسوسناک بات ہے۔''
یہ سن کر اس لڑکی نے بھی اپنے باپ کی طر ح چیخ ماری اور تڑپنے لگی اوراسی حالت میں ان کی روح بھی عالم بالا کی طرف پر واز کر گئی۔ پھر میں عصر کی نماز کے لئے مسجد نبوی شریف علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام میں حاضر ہوا اور میں نے نماز کے بعد ان دونوں باپ بیٹی کے لئے خوب رو رو کردعا کی ، پھر وہ غلام آیا اور اس نے اطلاع دی کہ ان دونوں کی تکفین ہوچکی ہے ،آپ نماز جنازہ کے لئے تشریف لے چلیں ۔ پھرہم نے ان کی نماز جنازہ پڑھی اور انہیں دفنا دیا گیا ۔ پھر میں نے لوگوں سے دریافت کیا:'' یہ باپ بیٹی کون تھے؟ ''تو مجھے بتایاگیا:''یہ حضرت سیدنا حسن بن علی بن ابوطالب رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی اولاد سے ہیں ۔
حضرت سیدنا ابو عامر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :'' مجھے کافی دنوں تک ان کی موت کا افسوس رہا پھر ایک رات میں نے ان دونوں باپ بیٹی کو خواب میں دیکھا، انہوں نے سبز جنّتی حُلّے زیب تن کئے ہوئے تھے۔میں نے ان کو دیکھ کر کہا :'' مرحبا! تمہیں مبارک ہو،میں تو تمہاری وجہ سے بہت غمگین تھا، تمہارے ساتھ اللہ عزوجل نے کیا معاملہ فرمایا؟ ''اس بزرگ نے فرمایا: ''ہمیں بخش دیا گیا اور ہمیں نعمتیں ملیں، ان میں تم بھی ہمارے ساتھ شریک ہو۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)