ابو عامر!بے شک میں بھی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ا ن بھائیوں میں سے ہوں جو سفر آخرت کے مسافر ہیں۔ مجھے خبر ملی ہے کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مدینہ منورہ میں آئے ہوئے ہیں ،مجھے اس بات سے بہت خوشی ہوئی اورمیں اپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زیارت کا متمنی ہوں اور مجھے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی صحبت اختیار کرنے اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکی گفتگو سننے کا اتنا شوق ہے کہ میرا رواں رواں آپ کے دیدار کی طلب میں تڑپ رہا ہے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو اس کریم ذات کا واسطہ جس نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو محبت کے جام پلائے مجھے اپنی قدم بوسی اور زیارت سے محروم نہ کیجئے گا (برائے کرم میرے غریب خانہ پر تشریف لائیے اور مردہ دلوں کو جلابخشئے) ۔
والسّلام
حضرت سیدنا ابو عامر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :'' میں اسی وقت اس خط لانے والے غلام کے ساتھ اس کے آقا کے گھر کی طر ف چل دیا ، ہم چلتے ہوئے ایک ویران جگہ پرپہنچے ،وہاں ایک خستہ حال ٹو ٹا پھوٹا گھرتھا ۔غلام نے مجھے دروازے کے پاس کھڑا کیا اور کہا:''آپ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)تھوڑی دیر یہاں انتظارفرمائیں،میں اپ کے لئے اجازت طلب کرتا ہو ں۔چنانچہ میں وہاں انتظار کرنے لگا ۔ کچھ دیر کے بعد غلام نے آ کر کہا:''حضور! اند ر تشریف لے آئے ۔''جب میں کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا کہ کمرہ نہایت بو سیدہ اور خالی ہے ، اس کا دروازہ کھجور کے تنے سے بنا ہوا ہے اور ایک نہایت کمزور ونحیف شخص قبلہ رو بیٹھا ہوا ہے، چہرے پر خوف وکرب کے آثار نمایاں ہیں اور اسے دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ یہ شدید غم وپریشانی میں ہے ۔ کثرت بکاء (یعنی بہت زیادہ رونے) کی وجہ سے اس کی آنکھیں بھی ضائع ہوچکی تھیں۔ میں نے اسے سلام کیا ، اس نے سلام کا جواب دیا۔ جب میں نے غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ اندھا اوراپاہج بھی ہے اور نہایت غم و الم میں مبتلا ہے اور اسے جذام کی بیماری بھی لاحق ہے۔ پھر اس نے مجھ سے کہا:''اے ابو عامر(رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)!اللہ عزوجل آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دل کو گناہوں کی بیماری سے حفاظت میں رکھے،میں ہمیشہ اس بات کا خواہش مند رہا ہوں کہ آپ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) کی صحبت اختیار کرو ں اور آپ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)سے نصیحت آموز گفتگو سنوں،اے ابو عامر(رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)! مجھے ایک ایسا زخمِ دل لاحق ہے کہ تمام واعظین وناصحین بھی اس کا علاج نہ کرسکے اور اطباء اس کے علاج سے عاجز آچکے ہیں ۔ مجھے یہ خبر ملی ہے کہ آپ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) کی تجویزکردہ دوا اور مرہم زخموں کے لئے بے حد سود مند ہے، برائے کرم! میرے زخمی دل کا علاج فرمائیں اگرچہ دوا کتنی ہی تلخ وناگوار کیوں نہ ہو، میں شفاء کی امید لگائے دوا کی تلخی و ناگواری برداشت کرلوں گا۔''
حضرت سیدنا ابو عامر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :اس بزرگ کی یہ بات سن کر مجھ پر رُعب ودبدبہ طاری ہوگیا ، اس کی باتوں میں مجھے بڑی حقیقت نظر آئی ۔ میں کافی دیر خاموش رہا اور غور وفکر کرتارہا پھر میں نے اس بزرگ سے کہا :''اگر تم اپنی بیماری