پھر جب میں نے دیکھا کہ ملک الموت علیہ السلام ہمیں اللہ ربُّ العزَّت کی بارگاہ میں ضرور لے جائیں گے، تو میں نے اپنے آپ کو ان کی آمد سے پہلے ہی اللہ عزوجل کی بارگاہ میں پیش ہونے کے لئے تیار کر لیا تا کہ ان کی آمد کے وقت میں کسی چیز کی طرف محتاج نہ ہوں۔''
یہ سن کر حضرت سیدنا شفیق بلخی علیہ رحمۃ اللہ الغنی نے فرمایا:''اے حاتم اصم !تمہاری کوشش بے کار نہ گئی بلکہ تم اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے ۔''
حضرت سیدنا حاتم اصم علیہ رحمۃاللہ الاعظم فرماتے ہیں :'' ایک مرتبہ مجھ سے حضرت سیدنا شفیق بلخی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ''لوگ چار چیز وں کا دعوی تو کرتے ہیں لیکن ان کا عمل ان کے دعوی کے بالکل خلاف ہے :
(1)۔۔۔۔۔۔ لوگ دعوی تو یہ کرتے ہیں کہ ہم اللہ عزوجل کے غلام ہیں مگر وہ عمل آزاد لوگوں والے کرتے ہیں ۔
(2) ۔۔۔۔۔۔ان کا دعوی تو یہ ہے کہ ہمارے رزق کا کفیل اللہ ربُّ العزّت ہی ہے لیکن وہ اس بات پر مطمئن نہیں ہوتے۔
(3) ۔۔۔۔۔۔ان کا دعوی تو یہ ہے کہ آخرت کی زندگی دنیاوی زندگی سے بہتر ہے لیکن پھر بھی وہ دنیا کا مال جمع کرنے میں سر گرداں ہیں۔
(4) ۔۔۔۔۔۔ان کا دعوی تویہ ہے کہ موت بر حق ہے لیکن ان کے اعمال ایسے ہیں جیسے انہوں نے مرنا ہی نہیں۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)