Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
116 - 410
     پھر جب میں نے دیکھا کہ ملک الموت علیہ السلام ہمیں اللہ ربُّ العزَّت کی بارگاہ میں ضرور لے جائیں گے، تو میں نے اپنے آپ کو ان کی آمد سے پہلے ہی اللہ عزوجل کی بارگاہ میں پیش ہونے کے لئے تیار کر لیا تا کہ ان کی آمد کے وقت میں کسی چیز کی طرف محتاج نہ ہوں۔''

     یہ سن کر حضرت سیدنا شفیق بلخی علیہ رحمۃ اللہ الغنی نے فرمایا:''اے حاتم اصم !تمہاری کوشش بے کار نہ گئی بلکہ تم اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے ۔''

     حضرت سیدنا حاتم اصم علیہ رحمۃاللہ الاعظم فرماتے ہیں :'' ایک مرتبہ مجھ سے حضرت سیدنا شفیق بلخی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ''لوگ چار چیز وں کا دعوی تو کرتے ہیں لیکن ان کا عمل ان کے دعوی کے بالکل خلاف ہے : 

(1)۔۔۔۔۔۔ لوگ دعوی تو یہ کرتے ہیں کہ ہم اللہ عزوجل کے غلام ہیں مگر وہ عمل آزاد لوگوں والے کرتے ہیں ۔

(2) ۔۔۔۔۔۔ان کا دعوی تو یہ ہے کہ ہمارے رزق کا کفیل اللہ ربُّ العزّت ہی ہے لیکن وہ اس بات پر مطمئن نہیں ہوتے۔

(3) ۔۔۔۔۔۔ان کا دعوی تو یہ ہے کہ آخرت کی زندگی دنیاوی زندگی سے بہتر ہے لیکن پھر بھی وہ دنیا کا مال جمع کرنے میں سر گرداں ہیں۔

(4) ۔۔۔۔۔۔ان کا دعوی تویہ ہے کہ موت بر حق ہے لیکن ان کے اعمال ایسے ہیں جیسے انہوں نے مرنا ہی نہیں۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)
حکایت نمبر47:              جنت کے سبز حُلّے
     حضرت سیدنا ابراہیم بن عبداللہ بن علاء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں، میں نے ابو عامر واعظ علیہ رحمۃ اللہ الواحد کو یہ فرماتے ہوئے سنا :'' ایک مرتبہ میں مسجد نبوی شریف کی نور بار فضاؤں میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک ایک کالا غلام آیا جس کے پاس ایک خط تھا، اس نے وہ خط مجھے دیا اور پڑھنے کو کہا۔ میں نے خط کھولا تو اس میں یہ مضمون لکھا تھا۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم  ؕ
     ( اے ابو عامر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ!)اللہ عزوجل نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکو اُمور ِآخرت میں غور وخوض کرنے کی سعادت عطا فرمائی۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکو(لوگوں سے )عبرت حاصل کرنے کی توفیق بخشی ،اور خلوت نشینی کی عظیم دولت سے سرفراز فرمایا، اے
Flag Counter