سانپ نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو دھوکا دیا اورآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکی جان کے در پے ہوگیا تو تمام ملائکہ نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں عرض کی:'' یااللہ عزوجل !اس کوسانپ کے شرسے محفوظ رکھ ۔''چنانچہ اللہ ربُّ العزَّت عزوجل نے مجھے حکم فرمایا: '' اے فلاں بندے کے نیک عمل! تو جاکر میرے بندے کی مدد کر اور اس سے کہہ کہ تو نے محض ہماری رضا کی خاطر نیکی کی، جا تیری اس نیکی کے بدلے ہم نے تجھے احسان کرنے والوں میں شامل کرلیا اور ہم تیرا انجام بھی محسنین کے ساتھ فرمائیں گے اور ہم تیرے دشمنوں سے تیری حفاظت کریں گے ۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)
وضاحت:یہ حکایت اس لئے پیش کی گئی ہے کہ گناہ ومعاصی سے انسان کو ہمیشہ دور رہنا چاہے ورنہ شیطان ہر طر ح انسان کو ورغلانے کی کوشش کرتاہے اور اس حکایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر انسان محض رضائے الٰہی عزوجل کے لئے نیکی کرے تو اللہ رب العزت جل جلالہ اس کی مدد فرماتا ہے ، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ شیطان انسا ن کا کھلا دشمن ہے وہ ہر صورت میں آکر ہرطر ح کی جھوٹی قسمیں کھاکر انسان کو ور غلاتا ہے لہٰذا سمجھ دار وہی ہے جو اپنے دشمن کی جانب سے ہر وقت چو کنا رہے ، اور اس کے ہر وار کو ناکام بنا دے ۔